امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین ٗکین نے جمعرات کو اعلان کیا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جانب سے ایران کے بارے میں جاری کردہ ایک نئی رپورٹ پریشان کن ہے اور امریکہ اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ڈین کین نے امریکی کانگریس کے اراکین کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ایجنسی کے اس تازہ ترین فیصلے کے بعد ایسا کیا کیا جائے کہ جس میں ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا جائے۔

دوسری طرف جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈے فل نے جمعرات کو روم میں اپنے اطالوی ہم منصب انتونیو تاجانی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کا ملک ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حامل ہونے کو قبول نہیں کرے گا۔ ہر کوئی کسی بھی طرح کی کشیدگی سے بچنا چاہتا ہے۔ ہم اس کے ساتھ کھڑے نہیں رہیں گے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوتے نہیں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج رات مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے اور اتوار کو اسرائیل کا دورہ کریں گے جہاں ایرانی مسئلے پر بات چیت کی جائے گی۔

دریں اثنا فرانس نے جمعرات کو ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کی نئی سائٹ بنانے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا۔ فرانس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ ہم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کے حوالے سے مختلف بیانات کو بڑی تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر ہم نئے انفراسٹرکچر کی تعمیرکے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے آج اطلاع دی ہے کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اس فیصلے کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے جس میں تہران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایران نے ایک نئی افزودگی سائٹ کا افتتاح اور فورڈو جوہری تنصیب میں سینٹری فیوجز کی جدید کاری کا اعلان بھی کیا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے جمعرات کو ایران کے

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل