data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر صدارت ادارہ نور حق میں امرا اضلاع کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی و صوبائی بجٹ میں ایک بار پھر کراچی کو نظر انداز کرنے ، ساڑھے 3 کروڑ عوا م کو جائز اور قانونی حق نہ دینے اور شہریوں کو ریلیف نہ ملنے کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائے گا ، حقوق کراچی تحریک کو از سر نو منظم وتیز کیا جائے گا اور بہت جلد احتجاج کی تفصیلات اور ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا ۔ اجلاس میں احتجاج اور تحریک کو مؤثر اور تیز کرنے کے حوالے سے شرکا نے اپنی آرا اور مختلف تجاویز پیش کیں جن کی روشنی میں اہم فیصلے اور اقدامات کیے گئے ، اجلاس میں کراچی کی آبادی اور بڑھتے ہوئے مسائل کے باوجود کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے خاطر خواہ رقم مختص نہ کرنے کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ کراچی وفاقی یا صوبائی، کسی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔منعم ظفر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا اور نواز لیگ ، پیپلز پارٹی و ایم کیو ایم کے رحم و کرم پر ہر گز نہیں چھوڑے گی ، حکمران پارٹیوں کو کراچی کے عوام کے مسائل و مشکلات سے کوئی سرو کار نہیں ، کراچی کو سونے کی چڑیا اور کھانے کمانے و مال بنانے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے ، ان حالات میں بھی جب کراچی کے شہریوں ، تاجروں و صنعتوں کو بجلی و پانی اور انفرا اسٹرکچر کے سنگین مسائل کا سامنا ہے ، ملک کی 54فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہوتی ہے ، قومی خزانے میں 67فیصد ریونیو کراچی جمع کراتا ہے اور صوبے کا 95فیصد بجٹ بھی کراچی فراہم کرتا ہے لیکن کراچی کو اس کا جائز اور قانونی حق نہیں دیا جاتا ،عوام شدید گرمی میں بھی بدترین لوڈشیڈنگ ، پانی کی شدید قلت ، سڑکوں کی خستہ حالی ، بہتر ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور تعلیم و صحت کے مسائل کا شکار ہیں ، پورے ملک میں بجلی 35روپے فی یونٹ لیکن کراچی سے 40روپے فی یونٹ وصولی کی جاتی ہے ، کے الیکٹرک کو 7سالہ ظالمانہ ٹیرف اور ریکوری نقصانات عام صارفین سے وصولی کی اجازت دے دی گئی ہے ، ایک طرف نیپرا ، کے الیکٹرک اور حکومت نے کراچی کے عوام کے خلاف شیطانی اتحاد کیا ہوا ہے تو دوسری طرف واٹر کارپوریشن بھی قابض میئر کی چیئر مین شپ میں مافیا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ، شہرکا آدھا حصہ پانی سے محروم ہے لیکن ٹینکر مافیا کو پانی مل رہا ہے ، شہریوں کے گھروں کے نلکوں میں پانی نہیں آرہا اور وہ مہنگے داموں ٹینکرخریدنے پر مجبور ہیں ، شہرمیں مسلح ڈکیتیاں ، لوٹ مار اور اسٹریٹ کرائمز عام ہیں، خونی ڈمپر و ٹینکر آئے روز شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ،چوروں ، ڈاکوئوں اور ہیوی ٹریفک کو لگام دینے والا کوئی نہیں۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے شہر کے ہر مسئلے پر آواز اُٹھائی ہے اور ہر فورم پر کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑا ہے ، عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے اور سڑکوں و شاہراہوں پر احتجاج بھی کیا ہے ، عوام کے مسائل کے حل ، بلدیاتی اداروں ، ٹائون اور یوسیز کو وسائل کی فراہمی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے منتخب نمائندوں نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے ’’حقوق کراچی تحریک‘‘کو اب مزید آگے بڑھائیں گے ، کراچی کے عوامی مسائل کے حل اور حق کے لیے جدو جہد اور مزاحمت جاری رکھیں گے ۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ادارہ نورحق میں حقوق کراچی تحریک کے حوالے سے امراء اضلاع کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حقوق کراچی تحریک کراچی کے عوام جماعت اسلامی

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی