data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے جلد معاہدہ نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے ایران پر مزید بڑے حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت ختم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کو پہلے بھی معاہدہ کرنے کا موقع دیا گیا تھا، مذاکرات قریب تک پہنچے مگر حتمی معاہدہ نہ ہوسکا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے کچھ سخت گیر عہدیداروں نے بہادری سے بات کی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اب وہ تمام سخت گیر عناصر مارے جا چکے ہیں اور آئندہ مزید خطرناک کارروائیاں متوقع ہیں۔امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا دنیا میں سب سے مہلک ہتھیار بناتا ہے اور اسرائیل ان ہتھیاروں کا ماہر صارف ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ “ایران کو اب بھی معاہدے کی طرف آنا چاہیے، اس سے پہلے کہ کچھ باقی نہ بچے۔”انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر بیان دیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران کے پاس جوہری معاہدے تک پہنچنے کا شاید ’دوسرا موقع‘ ہے۔وہ لکھتے ہیں: ’دو ماہ قبل میں نے ایران کو ‘معاہدہ کرنے’ کے لیے 60 دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔ انھیں یہ کرنا چاہیے تھا۔ آج 61واں دن ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ کیا کرنا ہے لیکن اب ان کے پاس دوسرا موقع ہے!امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت اتوار کو عمان میں اپنے چھٹے دور میں داخل ہونے والی تھی۔علاو ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے منصوبے کا پہلے سے علم تھا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے اس آپریشن میں کسی قسم کا کردار ادا نہیں کیا۔ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر نظر ثانی کرے گا اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ “ایران کے پاس ایٹم بم نہیں ہونا چاہیے، اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔”ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سیاسی تجزیہ کاروں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کو ایران کے

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی