معاشرے کے ہر شعبے میں خواتین کا کلیدی کردار رہا ہے۔دیکھا جائے تو ان کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔تحریک پاکستان سے لے کر 8 فروری 2024 ء کو ہونے والے عام انتخابات تک پاکستان کی سیاست میں خواتین کا سیاسی کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔میکسم گورکی نے تاریخ ساز ناول ماں میں ایک عورت کا جو خاکہ پیش کیا وہ ہمیں محترمہ فاطمہ جناح،بیگم سلمی تصدق حسین،رعنا لیاقت علی خاں اور فاطمہ صغری کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔یہ وہ خواتین ہیں جن کے شانہ بشانہ ہزاروں خواتین نے اپنی زندگیاں جدوجہد پاکستان کے لیے وقف کیں۔ان خواتین کی تحریک پاکستان میں جدوجہد اور حوصلہ کسی طرح بھی مردوں سے کم نہیں تھا۔جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھی ملکی سیاست میں خواتین نے اپنا جو کردار نبھایا،نہایت اہمیت کا حامل ہے۔محترمہ فاطمہ جناح نے تو جنرل محمد ایوب خاں کی آمریت کا بخوبی ڈٹ کر مقابلہ کیا جبکہ رعنا لیاقت علی خاں نے اہم کلیدی عہدوں پر خدمات سرانجام دیں۔اسی طرح محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھی سیاسی کردار اور جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بھی بنیں۔اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وراثت سنبھالی۔پھر اس کی حفاظت کرتے ہوئے جان تک قربان کر دی۔مشکل وقت میں بیگم کلثوم نواز نے بھی جس طرح میاں محمد نواز شریف کا ساتھ دیا وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔آج مریم نواز سیاست میں ہیں۔انہوں نے پڑھائی سے فارغ ہو کر اپنے لئے جو راستہ چنا۔وہ سیاست کا راستہ تھا۔اگرچہ یہ ایک بہت ہی کٹھن راستہ تھا۔مگر انہوں نے ذرا بھی تامل نہیں کیا۔ابتدائی دنوں میں قید بھی کاٹی۔جیل کے مشکل حالات بھی جھیلے۔مگر پائے استقلال میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی۔مریم اورنگ زیب، شیری رحمن،شیریں مزاری،شہلا رضا، عظمی بخاری،نفیسہ شاہ،شازیہ مری، تہمینہ دولتانہ، فہمیدہ مرزا، سیدہ عابدہ حسین اور اب آصفہ بھٹو سمیت درجنوں خواتین ایسی ہیں جنہوں نے سیاست کے میدان میں بھرپور کردار ادا کر کے اپنی بصیرت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد جو میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔عمر کے اس حصے میں جیل کاٹ رہی ہیں جب انسان کو زیادہ آرام اور اپنا بہت خیال رکھنے کے ضرورت ہوتی ہے۔بے شمار اور بھی ایسی خواتین ہیں جنہوں نے قیدوبند کی صعوبتوں کے باوجود اپنی جماعت کے ساتھ وفا نبھائی ہے۔ مشکل حالات میں بھی ڈٹ کر کھڑی رہی ہیں اور ہر چیلنج قبول کیا ہے۔ہسپتال ہوں،تعلیمی ادارے یا سائنس ٹیکنالوجی کے شعبے،حتی کہ کارخانوں، کھیتوں، کھلیانوں میں بھی خواتین کا نمایاں کردار نظر آتا ہے۔ اسی طرح سپورٹس کے میدان میں بھی خواتین نمایاں کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔خواتین کی انہی خدمات کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کو یہ ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ خواتین کی مخصوص نشستوں کیساتھ ساتھ عام نشستوں پر بھی خواتین کو پانچ فیصد نمائندگی دیں۔مختلف سٹڈیز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست میں خواتین کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی اتنی ہی زور دار اور بھرپور طریقے سے خواتین کے سیاسی اور معاشرتی حقوق کی بات سامنے آئے گی۔دنیا کے کئی ممالک کی قیادت اس وقت خواتین کے ہاتھ میں ہے۔مثلاً امریکہ میں کملا ہیرس نائب صدر کے عہدہ پر فائز ہیں۔نیوزی لینڈ میں جینڈا آرڈون دوبارہ وزیراعظم اور جرمنی میں اینگلا مرکل، چانسلر منتخب ہو چکی ہیں۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر۔ خواتین ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔پاکستان میں بھی دن بدن اس بات کا اداراک بڑھ رہا ہے کہ خواتین کو اس دور میں ہرگز بھی سیاست اور زندگی کے دیگر شعبوں سے الگ اور دور نہیں رکھا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ سالوں میں اعلی ترین عہدوں پر خواتین کو براجمان ہوتے دیکھا ہے۔ اس وقت لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بھی ایک خاتون عالیہ نیلم ہیں۔اگرچہ آج کی ہماری خواتین بہت پڑھی لکھی اور ذہین و فطین ہیں۔مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انہوں نے اپنی کارکردگی اور خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کی وہ حقدار اور مستحق ہیں۔پاکستان میں سیاست کرنا اور اس سے وابستہ رہنا ہمیشہ ہی سے ایک مشکل عمل رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں خواتین کی سیاست میں شمولیت کی اہمیت بڑھی ہے۔ہمارا ملک اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ یہاں خواتین نے بہت سے نامساعد حالات کے باوجود جس طرح خود کو منوایا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ خواتین سیاستدان جمہوریت کی بقا کے لیے ہر آمر کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی رہیں اور کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آئیں۔سیاست میں خواتین کی بہت زیادہ کردار کشی بھی ہوتی ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔اس کردار کشی کی بنیاد قیام پاکستان کے وقت سے ہی رکھ دی گئی تھی۔ تاکہ خواتین اپنی کردار کشی کے ڈر سے ناصرف سیاست سے دور رہیں بلک کسی ہ دوسرے شعبے میں بھی اپنی کارکردگی نہ دکھا سکیں۔
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے 1965 ء میں اپنے وقت کے سب سے بڑے آمر جنرل ایوب خاں کے مقابلے میں صدارتی الیکشن لڑنے کا فیصلہ جمہوریت کے تسلسل کے لیے کیا۔محترمہ نہیں چاہتی تھیں کہ سیاست میں فوج کا کوئی عمل دخل یا کردار ہو۔اس سوچ اور کوشش کی سزا محترمہ فاطمہ جناح کو کردار کشی کی صورت میں ملی اور مہم چلائی گئی کہ وہ مغربی ایجنٹ ہیں۔ یہیں سے خواتین سیاستدانوں کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے دیوار سے لگانے کا عمل شروع ہو اور آمریت کی نرسری میں تیار ہونے والا یہ مکروہ عمل آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔نسیم ولی خاں بھی اپنے شوہر ولی خاں کے شانہ بشانہ آمریت کے خلاف لڑیں۔جس دور میں بیگم نسیم ولی خاں اپنے روشن خیالات کے ساتھ میدان سیاست میں آئیں، اس وقت پختون خواتین ایسا قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ نسیم ولی نے شوہر کے جیل جانے کے بعد ناصرف پارٹی کی کمان سنبھالی بلکہ سیاست میں اپنا سکہ بھی منوایا۔بیگم نصرت بھٹو کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ضیا الحق کی بدترین آمریت میں ان کی قربانیوں کی داستان نہایت طویل ہے۔شوہر ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد 1977 ء میں پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں لی جبکہ آمریت کے خلاف مظاہروں کی پاداش میں ان پر سرعام لاٹھیاں بھی برسائی گئیں۔ جس میں شدید زخمی بھی ہوئیں۔ انہیں بھی نہ صرف غدار بلکہ بدچلن عورت تک کہا گیا، لیکن وہ آمر کو للکارنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ نصرت بھٹو اس ملک اور جمہوریت کی خاطر اپنی بیٹی صنم بھٹو کے علاوہ خاندان کے تمام افراد کو قربان کرنی والی واحد سیاستدان خاتون کا اعزاز رکھتی ہیں۔ پرویز مشرف کا دور آیا تو محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی سیاست کرنے کی پاداش میں بے شمار مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔حتی کہ جلاوطن بھی ہوئیں۔بیگم کلثوم نواز بلاشبہ سیاست میں زیادہ سرگرم نہیں تھیں لیکن نواز شریف کو جب پرویز مشرف نے حکومت سے بیدخل کیا تو کلثوم نواز نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور بیماری کے باوجود اپنا فعال کردار ادا کیا۔ اب مریم نواز میدان سیاست میں ہیں اور والد کے بیانئیے کو لے کر چل رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: محترمہ فاطمہ جناح سیاست میں خواتین خواتین کی کے باوجود خواتین کا نہیں کیا رہی ہیں میں بھی جا سکتا کیا جا
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی