تیمور سلیم جھگڑا کا شیر افضل مروت کے خلاف ایک ارب ہرجانہ کا دعوی دائر
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
پشاور (نیوز ڈیسک) سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے شیر افضل مروت کے خلاف ایک ارب ہرجانہ کا دعوی دائر کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی ایم این اے شیر افضل مروت کا سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا پر الزامات کا معاملہ شدت اختیار کرگیا۔
تیمور سلیم جھگڑا نے شیر افضل مروت کے خلاف ایک ارب ہرجانہ کا دعوی دائر کردیا، سابق صوبائی وزیر نے علی گوہر درانی ایڈووکیٹ کی توسط سے دعوی دائر کی۔
دعوی میں کہا گیا کہ شیر افضل نے نجی چینل ٹاک شو میں تیمور سلیم جھگڑا پر بے بنیاد الزامات لگائے، پنشن فنڈ میں 36 ارب روپے غبن کا الزام لگایا۔
دعوی میں مزید کہا کہ شیر افضل نے تیمور سلیم ا پر حیات آباد میں پانچ کنال گھر لینے کا الزام لگایا، انھوں نے چھوٹے، بے بنیاد، من گھڑت الزامات لگائے، کردار کشی کی اور استحقاق مجروح کیا۔
شیر افضل کو لیگل نوٹس بھیجا، لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ایا، وہ اپنے بے بنیاد الزامات پر غیر مشروط تحریری معافی مانگے ساتھ ہی کردار کشی اور ہتک کرنے پر ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کریں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تیمور سلیم جھگڑا شیر افضل مروت دعوی دائر ایک ارب
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔