UrduPoint:
2026-06-03@08:12:33 GMT

کم عمری کی شادی کے خلاف بل اور علماء کے ماتھے کے بل

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

کم عمری کی شادی کے خلاف بل اور علماء کے ماتھے کے بل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 جون 2025ء) کم عمری کی شادی کے خلاف یہ بل ابھی صرف شہر اقتدار میں ہی قانون بن کر لاگو ہو گا لیکن کم از کم بچیوں کے حقوق کے تحفظ کی شروعات تو ہوئیں۔ اس بل کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی نہ صرف غیر قانونی بلکہ قابلِ سزا جرم قرار دی گئی ہے۔

نکاح خواں پر بھی فردِ جرم عائد ہو گی اور اگر بچی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر شادی کی گئی تو اسے اسمگلنگ کے زمرے میں لایا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ شادی سے قبل تھیلیسیمیا جیسے موروثی امراض کے خون کے ٹیسٹ بھی لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مقصد صرف یہ ہے کہ بچیوں کو بہتر زندگی، صحت مند جسم اور تعلیم کے مساوی مواقع دیے جائیں۔ یہ بل صدر پاکستان کے دستخط کے بعد اب قانون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

(جاری ہے)

لیکن مقام حیرت سمجھیے یا افسوس کہ اس سادہ سی بات پر بھی پاکستان میں ایک بھاری بحث کھڑی ہوئی۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اس قانون کو انسانیت اور بچوں کے تحفظ کے حق میں ایک تاریخی قدم سمجھتے ہیں اور دوسری طرف مذہبی جماعتیں اور کچھ علماء، جو اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان جیسے بڑے مذہبی رہنما نے نہ صرف اس قانون کو شریعت کے منافی قرار دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ اسلام آباد میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف بل منظور نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ان کا موقف ہے کہ بلوغت کے بعد نکاح کی اجازت شریعت میں موجود ہے، اس لیے ریاست کو عمر کی حد مقرر کرنے کا اختیار نہیں۔ ان کے بقول اس طرح کی قانون سازی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے، گویا بچوں کے تحفظ کا قانون کوئی سازشی ایجنڈا ہو۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اپنے اجلاس میں اس بل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کونسل نے نا صرف بل کی مختلف دفعات کو غیر اسلامی قرار دیا بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

اس رویے سے یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ مذہبی ادارے کسی بھی ایسی قانونی تبدیلی کو جو بچیوں کے حق میں ہو، شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں بچوں کا تحفظ نہیں، بلکہ صدیوں پرانی روایات کی غیر لچکدار تشریحات کو قائم رکھنا ہے۔

پاکستان سے پہلے کئی مسلم ممالک جیسے تیونس، مصر اور مراکش نے شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر کر رکھی ہے۔

ان ممالک نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ بچپن کی شادیوں کے سنگین جسمانی، ذہنی اور سماجی نقصانات عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے قانونی بنیاد موجود ہے۔ 2023 میں وفاقی شرعی عدالت نے سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کے تحت دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شادی کی کم از کم عمر طے کرنا ریاست کی صوابدید ہے۔

2023 کی یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا 18فیصد لڑکیاں 18 برس سے کم عمر میں بیاہ دی جاتی ہیں، جبکہ 4 فیصد لڑکیوں کی شادی 15 برس سے بھی کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں اس شرح میں معمولی کمی ہوئی ہے تاہم یہ مسئلہ اب بھی لاکھوں بچوں کو متاثر کر رہا ہے۔ یونیسف کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 12 ملین لڑکیوں کی شادی 18 برس سے پہلے کر دی جاتی ہے۔

اس قانون کی مخالفت کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں کھل کر سامنے آئی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق مطابق بچپن کی شادی کے خلاف بل بچوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے اور پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل کو مذہب سے متصادم قرار دینا بچوں کے حقوق کی نفی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس قانون پر فوری عملدرآمد ضروری ہے تاکہ بچیوں کے استحصال کی روک تھام ہو سکے، اور ریاست اپنی آئینی و بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔

ایچ آر سی پی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی بل میں رکاوٹ ڈالنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ مذہبی تشریحات قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہییں۔

یہ بات افسوسناک ہے کہ جن لوگوں کو معاشرے میں روشنی پھیلانی چاہیے وہی اندھیرے پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان سے سوال ہے کہ کیا انہوں نے کبھی خواتین پر تشدد، تعلیم کی کمی، یا آبادی میں بے تحاشہ اضافے جیسے مسائل پر آواز بلند کی؟ کیا وہ کبھی سڑکوں پر نکلے کہ ایک بچی کو تعلیم اور زندگی جینے کا حق دیا جائے؟ نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک صرف وہ قانون قابلِ اعتراض ہے جو عورت کو تحفظ دیتا ہے، اسے انسان سمجھتا ہے اور اس کے بچپن کو اس کے حال اور مستقبل سے جوڑتا ہے۔

یہ بل صرف ایک قانونی دستاویز نہیں، بلکہ پاکستان کی اجتماعی سوچ میں تبدیلی کی ایک بھی امید ہے۔ یہ پیغام ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف سانس لینے کے لیے نہیں، جینے کے لیے پیدا کرتے ہیں۔ انہیں کم عمری میں شادی کے بندھن میں جکڑنا صرف ان کے جسم پر نہیں بلکہ ان کی روح پر بھی ظلم ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی شادی کے خلاف کے تحفظ بچوں کے کے لیے

پڑھیں:

شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق

 ( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

 یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

 مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی