ایران نے حملے جاری رکھے تو تہران کو بھسم کردیں گے؛ اسرائیل
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے ہمارے شہروں پر فضائی حملے نہ روکے تو ہم تہران کو جلا کر بھسم کردیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جواباً اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دیتے ہوئے اپنی فوج کو منہ توڑ جواب دینے کی ہدایت کی تھی۔
جس پر صیہونی ریاست کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران کے آمر رہنما نے اپنے شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اسرائیل ہی ایرانیوں کو اس آمریت سے نجات دلائے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایرانی لیڈر کے بیانات اور جارحانہ اقدامات نے ایران کے عوام، خاص طور پر تہران کے رہائشیوں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران نے اسرائیلی شہریوں پر میزائل حملے جاری رکھے تو تہران کو آگ لگادیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکا، برطانیہ اور فرانس کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے روکنے کی کوشش کی تو خطے میں موجود مغربی فوجی اڈے ہمارے نشانے پر ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔