Daily Ausaf:
2026-06-03@07:23:50 GMT

مسلم دنیا پر مربوط جارحیت

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

دنیا پہلے ہی کئی بحرانوں کے دہانے پر کھڑی ہے، ایسے میں حالیہ اسرائیلی حملے نے نہ صرف ایران میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے بلکہ بعض عالمی قوتوں کے خطرناک کھیل کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ جارحیت اس بھارتی دراندازی کے فوراً بعد ہوئی ہے جو مئی کے اوائل میں پاکستان کی حدود میں کی گئی تھی اور جسے پاکستان نے 7 مئی کو جرات مندانہ اور حکمتِ عملی پر مبنی جواب دے کر ناکام بنایا۔ اگرچہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان طویل جنگ کے خطرات وقتی طور پر ٹل گئے، مگر اب جنگ کے بادل ایران کے اوپر منڈلا رہے ہیں اور فضا ایک نئے عدم استحکام کی خبر دے رہی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر حملے کیے ہوں۔ گزشتہ برسوں میں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور عسکری اثاثوں کو نقصان پہنچانے کے لیے متعدد خفیہ اور علانیہ کارروائیاں کیں۔ 27 نومبر 2020ء کو ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو تہران کے قریب دماوند کے علاقے ابسرد میں قتل کیا گیا، جس کی ذمہ داری غیر علانیہ طور پر اسرائیل پر عائد کی گئی، اگرچہ اسرائیل نے سرکاری طور پر اسے تسلیم نہیں کیا۔ اس سے پہلے، 2018ء میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ موساد نے ایران کے جوہری منصوبے سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کر لی ہیں، جسے تہران کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا گیا۔
حالیہ برسوں میں اسرائیل نے شام میں ایرانی ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ کیا ہے۔ شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق 2013ء سے 2023 ء کے درمیان اسرائیل نے 1,200 سے زائد فضائی حملے کیے، جن میں اکثر ایرانی اہلکار یا ان سے منسلک ملیشیاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ اپریل 2024 ء میں اصفہان میں ایک ایرانی عسکری تنصیب پر ہونے والے زبردست دھماکے کے پیچھے بھی اسرائیل کو ہی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تمام واقعات اسرائیلی معاندانہ پالیسی کا تسلسل ہیں، جس کا مقصد محض خطرات کو ختم کرنا نہیں بلکہ ایران کو علاقائی سطح پر کمزور کرنا ہے۔
تاہم موجودہ حملہ اپنے دائرہ کار اور نتائج کے لحاظ سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔ یہ کوئی محدود آپریشن نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک تبدیلی کا اشارہ ہے۔ ایسا اقدام جو ایک وسیع جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ ان عالمی طاقتوں کی خاموشی یا ہلکی پھلکی ردعمل، جو عام طور پر عالمی قوانین اور امن کے داعی بنتے ہیں، ایک سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی بار بار خلاف ورزی پر اس قدر درگزر کیوں؟ اور جب نشانہ کسی مسلم ملک کو بنایا جاتا ہے تو دنیا کی غیرت کیوں خاموش ہو جاتی ہے؟
شائد اس کا جواب ایک بڑی اور خوفناک حقیقت میں پوشیدہ ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں ایک طرزِ عمل واضح طور پر سامنے آیا ہے، جس کے تحت ابھرتی ہوئی مسلم ریاستوں کو مختلف بہانوں سے غیر مستحکم کیا جاتا ہے۔ عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے جھوٹے دعوے کے تحت حملہ کیا گیا، جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ لیبیا کو جمہوریت کے نام پر تباہ کر دیا گیا۔ شام ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جس میں عالمی اور علاقائی طاقتیں برابر کی شریک ہیں اور اب توجہ ایران پر مرکوز ہے، جو کہ طویل پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود سائنسی اور عسکری ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جہاں کچھ طاقتیں مسلم ریاست کی معمولی عسکری یا سائنسی ترقی کو بھی خطرہ سمجھتی ہیں، وہیں کوئی مسلم ملک کسی غیر مسلم ہمسایہ کی ترقی کو جارحیت کی بنیاد نہیں بناتا۔ ایران اور پاکستان سمیت اکثر مسلم ممالک نے دفاعی حکمتِ عملی اختیار کی ہے اور امن و بقائے باہمی کا علم بلند کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، اشتعال انگیزیاں جاری رہتی ہیں اور عالمی طاقتیں، جو انسانی حقوق کی دعوے دار ہیں، اکثر اس صورتِ حال پر خاموشی اختیار کرتی ہیں۔
مئی کے وہ دن، جب بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی، اس مربوط دشمنی کی واضح مثال ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور بھارت کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ اور مشترکہ منصوبہ بندی ہوئی۔ مگر پاکستان کا ردعمل فوری اور فیصلہ کن تھا۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور ایک پیشہ ور، عزم سے بھرپور فوج کی بدولت پاکستان نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے اور خطے میں استحکام کو برقرار رکھا۔ چونکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی، اب رخ ایران کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ ایک ایسی قوم کی طرف جو تنہائی اور دباؤ کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران کو غیر اشتعال انگیز جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے، تو اسے وہی انجام بھگتنا پڑ سکتا ہے جو فلسطین نے بھگتا ہے۔ ایک مظلوم قوم جو بتدریج اپنی زمین، اپنے حقوق اور عالمی حمایت سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن اگر ایران جوابی کارروائی کرتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ بڑی طاقتیں فوراً اسرائیل کی پشت پناہی کے لیے متحرک ہو جائیں گی اور ایران کی مذمت کریں گی۔ یہی دہرا معیار اور زمین پر قبضے کی حکمتِ عملی کی اصل شکل ہے۔
یہ لمحہ اجتماعی بیداری کا تقاضا کرتا ہے۔ مسلم دنیا کو خاص طور پر اس وسیع تر منظرنامے پر غور کرنا چاہیے کہ کس طرح ایک کے بعد ایک، ترقی کرتی ہوئی اسلامی ریاست کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کمزور کیا جا رہا ہے یا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک ملک یا ایک تنازعے کا نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی مہم کا ہے جس کا مقصد کسی بھی ابھرتی ہوئی مسلم طاقت کو عالمی سطح پر خود مختاری سے محروم رکھنا ہے۔ ایران، بالکل پاکستان کی طرح، ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ آج کے فیصلے صرف انفرادی ممالک کا نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کے وقار اور خودمختاری کا تعین کریں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری، خاص طور پر انصاف کے علمبردار، اپنی خاموشی توڑیں۔ ظلم کہیں بھی ہو، انصاف کے لیے خطرہ ہوتا ہے، اور مخصوص اخلاقیات کی آڑ میں جارحیت کا تسلسل دنیا کو صرف تباہی کے قریب لائے گا۔ دعا ہے کہ عقل و دانائی غالب آ جائے، اس سے پہلے کہ خطہ کسی وسیع، اور شاید بے قابو، جنگ کی لپیٹ میں آ جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل نے کیا جا

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار