ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت پر مقبوضہ کشمیر میں غم و غصے کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی اور اسے ایک بدمعاش ریاست اور عالمی امن کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور مذہبی رہنماوں نے ایران کے خلاف اسرائیل کی ننگی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو بلاجواز، اشتعال انگیز اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی اور اسے ایک بدمعاش ریاست اور عالمی امن کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت ایرانی شہریوں کی ہلاکت پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا۔ میر واعظ نے گزشتہ روز سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ صہیونی ریاست بیگناہ فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے اور اب اس نے پورے مشرق وسطی کے امن کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی اور دیگر ملکوں کو نشانہ بنانے سے روکے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر بلاجواز قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس حملے کے سنگین عالمی اثرات ہوں گے۔ انہوں نے بھارتی وزارت خارجہ پر زور دیا کہ وہ ایران میں موجود کشمیری طلباء کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے ”ایکس“ پر لکھا کہ اسرائیل نے فلسطین، یمن، شام، لبنان اور ایران کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے، صیہونی حکومت اپنا دفاع نہیں کر رہی بلکہ ایک استعماری ٹھگ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنا کر بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا کر دی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ اسرائیل بے لگام ہو چکا ہے، اس کی جارحیت پر مغرب کی خاموشی افسوسناک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے اسرائیلی اور عالمی قرار دیا انہوں نے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔