ہم نے اسرائیل کیخلاف تادیبی کارروائی کی، سپین
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک اجلاس میں ہسپانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور دو ریاستی حل کیلئے پرعزم ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ سپین کے وزیر خارجہ "خوزہ مانوئل الباریس بوئنو" نے کہا کہ اس وقت جب لوگ غزہ کی پٹی میں شدید بھوک کا شکار ہیں، امدادی ٹرکوں کو وہاں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فلسطین پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک ناسور بن کر رہ جائے گا۔ ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور دو ریاستی حل کے لیے پرعزم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کے خلاف تادیبی اقدامات کئے ہیں۔ جنگ بندی نافذ ہونی چاہیے اور امداد کا سلسلہ شروع ہونا چاہئے۔ اسپانوی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دو ریاستی حل کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور اسے اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔