حریت رہنماء مولانا حکیم عبدالرشید کا کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام ٹائمز کیساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں مقبوضہ کشمیر کے معروف حریت پسند رہنماء و جموں و کشمیر مسلم ڈیموکریٹک لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران ایک بڑی طاقت ہے، جس نے تنہاء باطل قوت کا مقابلہ کیا اور اگر ایران فلسطین مسئلہ پر خاموش رہتا اور انکی حمایت نہ کرتا تو شیطانی قوتوں کی لپیٹ میں نہ آتا۔ متعلقہ فائیلیںمولانا حکیم عبدالرشید کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع سرینگر سے ہے، وہ سالہا سال سے کشمیر میں مزاحمتی تحریک سے وابستہ ہیں۔ مختلف تبلیغی محاذوں پر سرگرم ہیں۔ مولانا حکیم عبدالرشید متحدہ ائمہ فورم کشمیر کے جنرل سیکرٹری اور جموں و کشمیر مسلم ڈیموکریٹک لیگ کے چیئرمین ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے مولانا حکیم عبدالرشید سے ایک نشست کے دوران خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران انہوں نے کہا کہ دھونس و دباؤ آمرانہ سوچ ہے، جسکے ذریعے کشمیریوں کو زیادہ دیر کچلا نہیں جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمریت کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کے مسائل کو حل کیا جائے۔ حیکم عبدالرشید نے کہا کہ کشمیریوں سے انکی شناخت چھینی گئی، اسے بحال کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک بڑی طاقت ہے، جس نے تنہاء باطل قوت کا مقابلہ کیا اور اگر ایران فلسطین مسئلہ پر خاموش رہتا اور انکی حمایت نہ کرتا تو شیطانی قوتوں کی لپیٹ میں نہ آتا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر کسی کے حقوق کو دبایا جائے، وہاں کے لوگوں کو انکی بحالی کیلئے قیام کرنا ہی چاہیئے۔ اس موقع پر ان سے لیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکیم عبدالرشید انہوں نے کہا کہ خصوصی انٹرویو
پڑھیں:
سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔