آپریشن سندورکی ناکامی، بھارت نے جعلی مقابلوں میں پاکستانیوں کو شہید کرکے دہشتگرد قرار دینے کا منصوبہ دوبارہ شروع کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
آپریشن سندورکی ناکامی، بھارت نے جعلی مقابلوں میں پاکستانیوں کو شہید کرکے دہشتگرد قرار دینے کا منصوبہ دوبارہ شروع کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 July, 2025 سب نیوز
سرینگر /اسلام آباد (سب نیوز)آپریشن سندورکی ناکامی کے بعد بھارت نے آپریشن مہادیو کے نام پر جعلی مقابلوں کا منصوبہ دوبارہ شروع کردیا، غیرقانونی حراست میں رکھے گئے پاکستانیوں کو شہید کرکے انہیں سرحد پار دہشتگرد قرار دیا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کی ناکامی اور پاک فوج کے ہاتھوں زبردست ہزیمت اٹھانے کے بعد آپریشن مہادیو کے نام سے جعلی مقابلوں میں زیرحراست پاکستانیوں کو شہید کرنے کا منصوبہ دوبارہ شروع کردیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن مہادیو کے تحت بھارت میں غیرقانونی اور جبری حراست میں رکھے گئے پاکستانیوں کو فیک انکاونٹرز میں شہید کرکے انہیں دہشت گرد قرار دیا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن مہادیو کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنا اور اندرون ملک سیاسی ساکھ بحال کرنا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت جیلوں میں قید پاکستانیوں کو شہید کرنے کے بعد انہیں سرحد پار دہشتگرد اور دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث قرار دیا جائیگا۔بھارت کے اس مذموم منصوبے کی مثال آج مقبوضہ کشمیر کے سری نگر میں جعلی مقابلے کے دوران 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کرکے ان میں سے 2 کو پہلگام حملے میں ملوث قرار دینا ہے۔
مقامی لوگوں نے بھارتی حکام کی جانب سے شہید نوجوانوں کو پہلگام حملے سے جوڑنے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان بے گناہ تھے اور انہیں جعلی مقابلے میں شہید کرکے عسکریت پسند قرار دیا گیا۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق جیسے ہی بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بحث کا آغاز کیا سیکیورٹی فورسز نے آج سری نگر کے قریب ایک جھڑپ میں 3 مبینہ پاکستانی عسکریت پسندوں کو مار دیا۔
بھارتی میڈیا نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ مارے گئے سلیمان شاہ کا تعلق لشکرِ طیبہ سے تھا، جسے 22 اپریل کو ہونے والے اس ہولناک دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق آج شروع کیے گئے آپریشن کا نام آپریشن مہادیو رکھا گیا ہے، جس میں 2 مزید عسکریت پسند ابو حمزہ اور یاسر بھی مارے گئے، بھارتی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ یاسر بھی پہلگام حملے میں ملوث تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں معیشت کی ڈیجیٹائزیشن ضروری، شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی: وزیراعظم اسلام آباد میں گدھے کا گوشت ، فوڈ اتھارٹی کی کارروائی پر اہم تفصیلات سامنے آگئیں راولپنڈی: پوسٹمارٹم میں 18 سالہ سدرہ کو گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق، جرگے کے سربراہ سمیت مزید 4 گرفتار احمد خان بھچر سمیت 51 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پی ٹی آئی 5 اگست احتجاج؛ اجازت نہ ملنے پر پلان بی سامنے آگیا پی اے آر سی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، 12ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا منصوبہ دوبارہ شروع کردیا پاکستانیوں کو شہید سیکیورٹی ذرائع آپریشن مہادیو جعلی مقابلوں کو شہید کرکے کی ناکامی قرار دیا بھارت نے کا کہنا
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔