سندھ میں پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی، سخت کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: حکومت سندھ کی پلاسٹک کی تیلیوں (شاپنگ بیگ) کے خاتمے سے متعلق صنعتوں اور دکانداروں کو دی گئی مہلت ختم ہوگئی ہے اور حکام نے اس حوالے سے سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے واضح احکمات جاری کیے ہیں کہ اب صوبے بھر میں پلاسٹک کی تھیلیوں (شاپنگ بیگ) پر مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
سندھ کے سیکرٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی آغا شاہنواز خان نے تمام مینوفیکچررز، سپلائرز، ہول سیلرز اور دکان داروں کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ پلاسٹک بیگز کی تیاری، ترسیل اور استعمال کسی بھی صورت برداشت نہیں ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے، گرفتاری اور فیکٹری بندش جیسے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیپا ٹیمیں فیلڈ میں نکلیں گی اور بغیر کسی رعایت کے کارروائی کی جائے گی۔
آغا شاہنواز خان نے مزید کہا کہ بارہا مہلت دی گئی تھی، آگاہی مہمات چلائی گئیں، وارننگز بھی دی گئیں لیکن اب برداشت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام فیکٹری مالکان، تھوک فروش اور ریٹیلرز فوری طور پر پلاسٹک بیگز کا کاروبار بند کر دیں ورنہ انہیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سخت کارروائی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔