کراچی: اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی برطرفی کے بعد سے صورتحال پیچیدہ ہے اور موجودہ انتظامیہ کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا یے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کمیشن کے ذریعے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی برطرفی کے بعد نئی تعیناتی کیلیے جاری اشتہار کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

جاری اشتہار کے خلاف بعض افراد نے عدالت میں درخواست دائر کی جس میں اُنہوں نے  نئے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی تقرری کے سلسلے میں جاری اشتہار پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ 

جس کے بعد اشتہار کو لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد کی ایک عدالت چیلنج کیا گیا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ عدالت کی جانب سے نئے ایگزیکٹیو کی تقرری کے لیے شروع کیے گئے پراسیس پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسے روک گیا ہے۔

اس سلسلے میں مئی کے آخری ہفتے میں جاری کیے گئے اشتہار میں عمر ہی حد 65 برس مقرر کی گئی ہے جبکہ 2023 میں اسی اسامی کے لیے جاری اشتہار میں عمر کی حد 62 برس تھی جسے وفاقی حکومت کے رولز کی خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔

مزید یہ کہ اشتہار میں امیدواروں کو درخواستیں جمع کرانے کے لیے 15 روز کا وقت دیا گیا ہے جو گزشتہ 2023 کے اشتہار میں 30 روز تھا جبکہ عمومًا اس قدر کم وقت نہیں دیا جاتا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ موجودہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی تیسری مدت جولائی کے آخری ہفتے میں پوری ہورہی ہے اور وہ اپنی موجودگی میں ہی اس آسامی پر تقرری چاہتے ہیں۔

’’یہ سارے کام انتہائی عجلت میں کیے جارہے ہیں کیونکہ ابھی اس بارے میں ابہام ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کی مدت ملازمت میں مزید توسیع ہوپائے گی یا نہیں کیونکہ ڈاکٹر مختار کے قریبی حلقوں کا کہنا یے کہ انھیں دو سالہ مدت کا ایک سال ملا تھا جبکہ ابھی ایک سال مزید مل سکتا ہے‘‘۔

ان کے ناقدین پر پھیلے ہوئے ایک بڑے حلقے کی رائے ہے کہ وہ اس سے قبل بھی دو بار چیئرمین ایچ ای سی رہ چکے ہیں اب یہ تیسری بار ہے لہذا یہ مدت نہیں بلکہ محض ایک سال کی توسیع تھی جو 29ویں جولائی کو پوری ہورہی ہے۔

ادھر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی تقرری کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں ملک بھر سے ایچ ای سی کو مبینہ طور پر 2 درجن سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس میں سندھ اور پنجاب سے بعض سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز بھی شامل ہیں جس میں سے بعض کو چیئرمین ایچ ای سی موزوں نہیں سمجھتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی جاری اشتہار اشتہار میں ایچ ای سی کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم