Express News:
2026-07-24@09:32:36 GMT

دوستیاں، یادیں اور گانے — ایک ناستلجک سفر

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

کبھی دوستی کسی موبائل پر سینڈ کی گئی رِیل نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ ایک سادہ سی مسکراہٹ میں چھپی ہوتی تھی — آدھی پلیٹ بریانی بانٹنے میں، اسکول کی کاپی پر ایک دوسرے کے نام لکھنے میں، اور ایک ہی رنگ کے کپڑے، چشمے، اور گھڑیاں پہننے میں۔

دوستی وہ ہوتی تھی جو خواب بھی ایک جیسے دیکھتی تھی۔ اُس وقت "دوست" صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات ہوا کرتا تھا۔

پہلے زمانے کی دوستیاں خالص ہوتی تھیں — نہ کسی لائک کی طلب، نہ کسی سین یا ویو کا انتظار۔ وہ وقت کسی ہارٹ ایموجی سے نہیں بلکہ دل کی دھڑکن سے جُڑا ہوتا تھا۔ ہم چُھپ کر تصویریں نہیں کھینچتے تھے، بلکہ ہاتھ تھام کر وہ تصویریں بناتے تھے جو دل پر چھپتی تھیں۔

بچپن میں دوستوں کے ساتھ کنچے، گلی ڈنڈا، لٹو اور پتنگ بازی کرتے۔ کھیل کے دوران جھگڑے بھی ہوتے مگر چند لمحوں بعد سب کچھ بھول کر ایک ہو جاتے۔ اسکول کے باہر حلیم کے ٹھیلے سے ایک پلیٹ حلیم اور دو روٹیاں لیتے اور مل کر کھاتے — وہی لمحے عید کی خوشی جیسے ہوتے۔

بارش ہو جاتی تو خوشی کی انتہا نہ رہتی۔ گلی میں پانی بہہ رہا ہوتا، اور ہم پرانے ٹائر کو دوڑاتے، چیختے چلاتے گلیوں میں بھاگتے۔ بارش کے بعد ہم "بھیمری" پکڑتے — وہ چھوٹی ہوائی جہاز جیسی چیز جو درختوں پر یا دیواروں کے ساتھ چپکی ہوتی تھی۔ ہم اس کی دم میں دھاگہ باندھتے اور اسے ہوا میں گھماتے۔ وہ گھومتی، گنگناتی، اور ہمارے بچپن کی فضاؤں کو موسیقی بخشتی۔

 

یہ سب کچھ معمولی لگتا ہے، مگر آج جب یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل کہتا ہے:

"کاش وہ دن لوٹ آئیں.

.. وہ دوست، وہ کھیل، وہ بارشیں، وہ بےفکری!"

عید سے کچھ دن پہلے دوستوں کو کارڈز دیے جاتے۔ لڑکے ایک دوسرے کو فلمی ہیروز کے پوسٹ کارڈ دیتے، جیسے کوئی بڑا تحفہ ہو۔ پھر جیسے جیسے عمر بڑھی، کرکٹ، فٹبال اور ہاکی نے جگہ لے لی۔ گرمیوں کی راتوں میں بجلی چلی جاتی تو چھپن چھپائی کھیلنے نکل جاتے — تب "امپریس" یا "بھنڈا" جیسے الفاظ کے معنی نہیں معلوم ہوتے تھے، مگر دل کی نیت صاف ہوتی تھی۔

کرکٹ کے میچ میں پچاس پیسے کی آئس کریم کی شرط لگتی تو جی جان سے کھیلا جاتا۔ کبھی لسی کی شرط ہوتی، جو اُس وقت چار روپے کی مل جاتی تھی۔

روز سائیکل پر بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ لائبریری جانا، آڈیو کیسٹس خریدنا ،بغیر بلائے خوب تیار ہو کر شادی ہال میں جا کر کھانا کھانا، ہوٹل میں ایک پلیٹ نہاری تین دوست مل کر کھاتے اور تین بار گریوی ڈلواتے —گھر سے دور جا کر سگریٹ پیتے۔ یہ سب یادیں نہیں، زندگی کا حاصل تھیں۔

سوسائٹی میں عید میلادالنبی ﷺ، جشنِ آزادی، اور دفاعِ پاکستان پر خود پروگرام کرتے، دوستوں کے ساتھ ملیر ندی تک پیدل جاتے اور امرود توڑ کر کھاتے۔ راتوں کو تاش کی محفلیں جمتی تھیں، ون ڈِش پارٹیاں ہوتیں، کبھی کسی کی مرغی چوری کر کے گھرکے باہر پکائی جاتی — زندگی میں ذائقہ تھا، رنگ تھے، شرارتیں  تھی، بےفکری تھی۔

پکنک بھی سادہ ہوتی — ملیر سٹی سے کلری جھیل جانے والی بس میں بیٹھ کر جاتے، راستے سے کھانا خریدتے اور قدرتی مناظر کے درمیان بیٹھ کر کھاتے۔ آج ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی وہ مزہ نصیب نہیں ہوتا۔

دوست آج بھی ہیں...
وہی نام، وہی چہرے، وہی آوازیں — مگر اب وہ قہقہے صرف ایموجیز میں رہ گئے ہیں، اور ملاقاتیں صرف "آن لائن" کی صورت۔ دوستی اب بھی ہے، لیکن اب وہ صرف موبائل کی اسکرین پر جگمگاتی ہے، وہ گہرائی، وہ بےساختگی، وہ لمس... کہیں کھو گیا ہے۔

مگر ان خالص لمحوں، ان جذبات، اور ان بےلوث تعلقات کو ہمیشہ کے لیے امر کیا ہے فلموں کی موسیقی نے۔
کتنے ہی نغمے دوستی کو مقدس رشتہ بنا کر پیش کرتے ہیں — وہ گانے صرف دھنیں نہیں، بلکہ ہمارے بچپن، لڑکپن اور جوانی کی یادوں کا آئینہ ہیں۔ جب بھی وہ دھنیں بجتی ہیں، دل ماضی کی گلیوں میں لوٹ جاتا ہے، جہاں دوستی صرف لفظ نہیں، زندگی کا سب سے خوبصورت رنگ ہوا کرتی تھی۔

ذیل میں ہم دوست اور دوستی پر بنے ہوئے کچھ مشہور نغمے آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
سنیں، پڑھیں اور محسوس کریں کہ ہمارے شاعروں، موسیقاروں اور گلوکاروں نے دوستی جیسے پاکیزہ رشتے کو کس طرح لازوال گانوں میں ڈھالا ہے۔


???? "احسان میرے دل پہ تمہارا ہے دوستوں"
 فلم: گابن (1966)

???? "دوست دوست نہ رہا، پیار پیار نہ رہا"
 فلم: سنگم (1966)

???? "میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے"
 فلم: آئے دن بہار کے (1966)

???? "یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے"
 فلم: شعلے (1975)

???? "اے یار سن یاری تیری"
 فلم: سہاگ (1979)

???? "سلامت رہے دوستاں یہ ہمارا"
 فلم: دوستانہ (1980)

???? "میرے دوست قصہ یہ کیا یو گیاا"
 فلم: دوستانہ (1980)

???? "او ہمدم اور ساتھی مجھے تیری دوستی پہ ناز ہے " 
پاکستانی  فلم ساتھی( 1980 )

???? "تیرا جیسا یار کہاں"
 فلم: یارانہ (1981)

???? " زندگی امتحان لیتی ہے "
 فلم: نصیب 1981)

???? "دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے"
 فلم: آخر کیوں (1985)

???? "اے میرے دوست لوٹ کے آجا"
 فلم: سورگ (1990)

???? "تیری دوستی سے ملا ہے مجھے"
 فلم: پیار کا سایہ (1991)

???? " دوستی کرتے نہیں دوستی ہو جاتی ہے "
 فلم: آرزو (1999)

???? "دل چاہتا ہے ہم نہ رہیں یاروں کے بن"
 فلم: دل چاہتا ہے (2001)

???? "دوستی ایسا ناتا جو سونے سے بھی مہنگا"

???? "یاروں، یہی دوستی ہے"


???? " دوست کیا خوب وفائوں کا "
نصرت فتح علی خان

ان نغموں میں صرف محبت یا وفا کی بات نہیں ہوتی، بلکہ یہ دوستی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہیں —
کہیں دوستی کا حلف،
کہیں اس کی بےلوثی،
کہیں دوست کی جدائی کا درد،
کہیں دوستی میں ہوئی بےوفائی کا کرب،
اور کہیں اس خالص رشتے کی قیمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

جب بھی یہ دھنیں بجتی ہیں، دل ماضی کی گلیوں میں لوٹ جاتا ہے، جہاں دوستی صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ زندگی کا سب سے خوبصورت رنگ ہوا کرتی تھی۔


پہلے دوستی وقت مانگتی تھی، خلوص مانگتی تھی۔ آج کی دوستی سگنل، کنکشن، اور "ریڈ" کے بلیو ٹک پر منحصر ہے۔
دوستی اب بھی ہے، پر وہ پرانا رومانس نہیں رہا — وہ سائیکل کی سواری، چھپ کر فلم دیکھنا، ایک ہی گلاس سے کوک پینا — اب صرف یادوں اور تصویروں میں رہ گیا ہے۔
یہ تحریر اُن لمحوں کے لیے ہے جو سچے تھے، اور اُن دوستوں کے لیے جو بغیر شرط، بغیر فیس، بغیر سٹیٹس ساتھ چلتے تھے۔
آج بھی اگر دل کسی پرانے گانے پر دھڑک جائے، تو سمجھ لیجیے، وہ پرانی دوستی کہیں نہ کہیں اب بھی سانس لے رہی ہے۔

آپ کی زندگی میں دوستی سے جڑی کوئی خوبصورت یاد ہے؟
یا کوئی ایسا نغمہ جسے سنتے ہی آپ کو اپنے پرانے دوست یاد آ جاتے ہیں؟
تو کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔
کیونکہ دوستی صرف جینے کا نام نہیں، بلکہ اسے بانٹنے کا بھی نام ہے۔

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دوستوں کے ہوتی تھی کر کھاتے کے ساتھ اب بھی

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف