سٹراس برگ(نیوز ڈیسک)پاکستان کا اعلی سطحی وفد یورپی یونین کے دارالحکومت برسلز میں اپنے دورے کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد فرانس کے شہر سٹراس برگ پہنچ چکا ہے

سٹراس برگ میں پارلیمانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک کریں گے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی چیئرپرسن اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سابق وزیر تجارت، دفاع اور امور خارجہ انجینئر خرم دستگیر خان، ایم کیو ایم کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیر برائے بحری امور سینیٹر سید فیصل علی سبزواری؛ سابق وزیر خارجہ ایمبیسڈر جلیل عباس جیلانی و سابقہ سیکرٹری خارجہ ایمبیسڈر تہمینہ جنجوعہ بھی وفد کا حصہ ہیں

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مقرر کردہ اعلٰی سطحی پارلیمانی وفد کے دورے کا مقصد، بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنا اور مسئلہ کشمیر کے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اجاگر کرنا ہے

پارلیمانی وفد سٹراس برگ میں یورپی پارلیمنٹ کے نائب صدر و ڈپٹی اسپیکر مس کرسٹل شیلڈیموس ( Ms.

Christel Sheldemos) ، جنوب ایشیائی ممالک سے تعلقات کیلئے یورپین وفد ،ڈی ساس (DSAS) کے ممبران، یورپین پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ ڈیوڈ مکلسٹر سمیت اہم یورپی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریگا

پارلیمانی وفد، ان ملاقاتوں میں
بھارت کے پاکستان مخالف عزائم اور جارحانہ اقدامات سے متعلق یورپی حکام کو آگاہ کریگا

پارلیمانی وفد مسئلہ کشمیر، دہشت گردی، اور بھارت کی جانب سے عالمی قوانین سے رو گردانی کرتے ہوئے، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور اس کے مضمرات پر بریفنگ دے گا۔ اور ان کو یہ باور کرائے گا کہ بھارت کی طرف سے آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی کوششیں خطے کے امن و استحکام کو شیدید خطرات سے دو چار کر سکتی ہیں

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پارلیمانی وفد

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ