پرتشدد ریلی کیس: عالیہ حمزہ، انتظار پنجوتھہ اور فلک ناز بلوچ کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے 8 فروری کو ہونے والی پرتشدد ریلی اور ریاست مخالف نعرے بازی کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما عالیہ حمزہ، انتظار پنجوتھہ اور فلک ناز بلوچ کی عبوری ضمانتوں کی توثیق کر دی۔
لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج عرفان حیدر نے درخواست ضمانتوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ایڈووکیٹ زبیر خالد عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلین بے قصور ہیں اور انہیں جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے درخواست ضمانتوں پر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تینوں ملزمان کی عبوری ضمانتوں کو کنفرم کر دیا۔
واضح رہے کہ مقدمہ 8 فروری کو نکالی گئی مبینہ طور پر پرتشدد ریلی اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔
آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کا شیڈول جاری، پاکستان اور بھارت کا مقابلہ کب ہوگا؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔