data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دی ہیگ: نیدرلینڈز میں فلسطینیوں کے حق میں میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے جمع ہوکر اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کیا۔

نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور ڈچ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایک بڑے عوامی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں منتظمین کے مطابق 1,50,000 افراد شریک ہوئے۔

احتجاج میں خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان سب شریک تھے، جنہوں نے سرخ لباس پہن کر اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ”ریڈ لائن“ قائم کی۔

مظاہرین نے نعرے بازی کی، تقاریر کیں اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے مارچ کیا۔ یہ وہی عدالت ہے جہاں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اسرائیل غزہ پر حملے بند کرے، انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اور عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے۔

یاد رہے کہ عدالت نے گزشتہ برس اسرائیل کو جنوبی شہر رفح پر فوجی کارروائی روکنے اور امدادی رسائی کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا، جس پر اسرائیل نے عملدرآمد سے انکار کیا۔

اسرائیل جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور ان کارروائیوں کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب غزہ میں جنگ کو 20 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اُس وقت شروع ہوئی جب حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر حملہ کر کے 1,200 افراد کو ہلاک کیا اور 251 یرغمال بنا لیے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع