وزیرِ اعظم نے آئی ٹی ایکوسسٹم کو بہتر بنانے سے متعلق اقدامات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئی ٹی شعبے کی تربیت اور پاکستان میں تربیتی پروگرامز کے ایکوسسٹم کو بہتر بنانے سے متعلق تمام اقدامات کی مدت کا تعین کرکے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نوجوانوں کو آئی ٹی شعبے کی تربیت اور پاکستان میں تربیتی پروگرامز کے ایکوسسٹم کو بہتر بنانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں آئی ٹی شعبے کی جدید تربیت کیلئے نظام کی تشکیل و اجراء پر تیزی سے کام جاری ہے جس کیلئے کنسلٹنسی فرمز کی خدمات کے حصول کے حوالے سے ٹرمز آف ریفرنسز حتمی مراحل میں ہیں۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ہواوے کے تعاون سے اب تک 20 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی شعبے کی جدید تربیت فراہم کی جا چکی اور حال ہی میں گزشتہ برس تربیت یافتہ پاکستانی طلباء و طالبات نے نہ صرف پورے چین بلکہ عالمی سطح پر آئی ٹی کے تین شعبہ جات میں پہلی تین پوزیشن جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
ان مقابلوں میں دنیا بھر سے 2 لاکھ امیدوار شامل تھے، وزیرِ اعظم نے مقابلے میں کامیاب ہو کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کرنے والے طلباء و طالبات کی پزیرائی کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور ہواوے کے اشتراک سے مزید 80 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی تربیت کی فراہمی کے ہدف کے حصول کیلئے اقدامات جاری ہیں جن میں نہ صرف بڑے شہروں بلکہ بلوچستان سمیت دور دراز علاقوں بشمول تربت میں بھی آن لائن کلاسز فراہم جائیں گی۔
وزیرِ اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹرینرز کو جدید ٹیکنالوجی اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کورسز کی تربیت کیلئے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں 50 ہزار ٹرینرز کی تربیت کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ تربیتی پروگرام کی بیچلرز پروگرامز میں شمولیت اور مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کے اجراء سے 3 لاکھ طلبا و طالبات کو آئی ٹی شعبے کی تربیت فراہم کرنے کا ہدف پورا کیا جائے گا۔
اجلاس کو رواں موسم گرما کی تعطیلات میں 1 لاکھ 46 ہزار بچوں کو وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہواوے کے اشتراک سے آئی ٹی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت جلد 2 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی کے جدید کورسز کی تربیت دے کر روزگار کے قابل بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کی مدت کا تعین کرکے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طالبات کو آئی ٹی طلباء و طالبات آئی ٹی شعبے کی بتایا گیا کہ کی تربیت اجلاس کو
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔