امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے سے قبل امریکا نے خفیہ طور پر اسرائیل کو تقریباً 300 ہیل فائر میزائل فراہم کیے۔ 

یہ انکشاف ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے کیا ہے جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

حکام کے مطابق یہ ترسیل اسرائیل کے ایران پر حملے سے صرف چند دن قبل کی گئی، اور اتنی بڑی مقدار میں میزائلوں کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کی جنگی منصوبہ بندی سے آگاہ تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کی ترسیل اور دیگر اسلحہ فراہمی کی خبریں خفیہ رکھی گئیں اور میڈیا میں کہیں رپورٹ نہیں ہوئیں۔

عہدیداروں نے مزید انکشاف کیا کہ ایران کی طرف سے داغے جانے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے امریکی فوج نے بھی اسرائیل کی مدد کی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی مہینوں سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہی ہے۔

ہیل فائر میزائل (Hellfire Missiles) دراصل لیزر گائیڈڈ اور ہوا سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیار ہیں جو انتہائی درستگی سے نشانہ لگاتے ہیں۔ انہیں ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور دیگر پلیٹ فارمز پر نصب کیا جا سکتا ہے۔

ان میزائلوں کا ابتدائی ڈیزائن 1980 کی دہائی میں اینٹی ٹینک ہتھیار کے طور پر کیا گیا تھا، مگر اب انہیں دنیا بھر میں فوجی آپریشنز میں استعمال کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان حملوں میں جہاں درست نشانے کی ضرورت ہو، جیسے جوہری تنصیبات پر حملہ۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی