data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی دارالحکومت تہران کو فوری طور پر خالی کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے حملے کا انتباہ دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران اسرائیل کشیدگی نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تہران کے عوام کو فوری طور پر دارالحکومت چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی دھمکی دی ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے تہران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ ایرانی حکومتی اہم اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے یہ بیان آج تل نوف ائربیس کے دورے کے دوران میڈیا کے سامنے دیا۔  انہوں نے کہا کہ ہمارے طیارے تہران کی فضاؤں میں راج کر رہے ہیں۔ ہم صرف عسکری اور حکومتی اہداف کو ہدف بنا رہے ہیں۔ تہران کے شہری خصوصی طور پر محفوظ زون منتقل ہوں تاکہ جان و مال کا تحفظ یقینی ہو۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا یہ سلسلہ چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران نے جارحیت کے جواب میں آج صبح بھی اسرائیل پر نئے  فضائی حملے کیے تھے، جس سے قابض ریاست کے دارالحکومت تل ابیب اور حیفا سمیت مختلف اسرائیلی علاقوں میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔،

ادھر اسرائیل کی جانب سے بھی ایرانی اہداف پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی تل ابیب کے رہنے  والوں کو  وارننگ دی گئی ہے کہ وہ شہر خالی کردیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو نے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل