ایران کا جدید ترین خودکش ڈرون استعمال کرنے کا اعلان، اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے بڑا چیلنچ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ایئروسپیس فورس نے پیر کے روز اپنے جدید ترین خودکش ڈرون "شاہد-107" کا باضابطہ طور پر انکشاف کیا جو دشمن اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بغیر پائلٹ کا فضائی ہتھیار طویل فاصلے تک مار کرنے اور دشمن کے دفاعی نظام کو چکما دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جاری کردہ تصاویر کے مطابق شاہد-107 ایک پسٹن انجن سے لیس ہے جو اسے 1500 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے جو کہ خطے میں موجود کسی بھی دشمن ہدف تک رسائی کے لیے کافی ہے۔
حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک تصویر میں ایرانی ساختہ ایک ڈرون جو شہید-107 سے مشابہت رکھتا ہے، اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں موجود Arrow 3 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کے قریب دیکھا گیا۔
اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی کی ایک بڑی پیش رفت ہوگی جو صیہونی ریاست کے جدید اور کثیر پرتوں والے دفاعی نظام میں شگاف ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ پڑھیں: "ایسا دھماکا پہلے کبھی نہیں سنا"، تل ابیب سے اسرائیلی صحافی کا حیران کن بیان
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شاہد-107 جیسے ڈرونز کو جتھوں (Swarm) کی صورت میں استعمال کیا جائے تو یہ اسرائیل کے دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس کے ردعمل کی صلاحیت کو کمزور کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی طاقت کے مظاہرے جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی صلاحیت
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔