پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر میں اہم سنگ میل حاصل کر لیا۔

چین اور پاکستان کے درمیان سمندروں سے گہری اور پہاڑوں سے بلند دوستی کی اعلیٰ مثال، ملک کے سب سے بڑے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 5 (سی-5) کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل حاصل کر لیا ہے۔ پاک چین دوستی کا درخشاں باب قرار دیے جانے والے ملک کے اس سب سے بڑے اور جدید ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے 14 جولائی 2023 کو  رکھا تھا-

 یہ منصوبہ تعمیر کے باقاعدہ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے- اس سلسلے میں جنرل منیجر چشمہ نیوکلیئر پاور کمپلیکس انجینئر حبیب الرحمن نے نیوکلیئر پاور کو توانائی کا کاربن فری اور با کفایت ذریعہ قرار دیتے ہوئے ملک کی انرجی سکیورٹی کے حوالے غیر معمولی اہم قرار دیا ہے۔

نیوکلیئر پاور کے شعبے میں پاکستان کا کامیاب سفر قابل فخر  اور پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو 1990 کی دہائی سے شروع ہوا۔ ملک کے سب سے بڑے اور جدید ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ سی-5 کے اضافے سے جس کی تکمیل 2030 تک متوقع ہے قومی گرڈ میں مزید 1200 میگاواٹ کاربن فری اور سستی بیس لوڈ بجلی کا اضافہ ہو گا جس سے گرڈ میں جوہری توانائی کا حصہ 4700 میگاواٹ سے زائد ہو جائے گا۔

اس پراجیکٹ سے سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا اور پاکستانی عوام کے لیے روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش