انتونیو مارسیلیا پاکستان نیوی کی دعوت پر کراچی پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
سٹی42: اٹلی کی بحریہ کا شاندار جنگی جہاز انتونیو مارسیلیا پاکستان نیوی کی دعوت پر کراچی پہنچ گیا۔
اٹالین نیوی کے جنگی بحری جہاز آئی ٹی ایس انتونیو مارسیلیاکی کراچی بندرگاہ آمد کے موقع پر پاکستان نیوی نے جہاز کا شایانِ شان استقبال کرنے کے لئے خاص اہتمام کیا۔ پاک بحریہ کے سینئیر افسروں اور اسلام آباد میں اٹلی کے ایمبیسیڈر نے کراچی پورٹ پر آئی ٹی ایس انتونیو مرسیلیا کے کیپٹن اور عملے کا پرتپاک استقبال کیا۔
اٹک: کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئے ضلع بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ
اطالوی بحریہ کاجہاز تین روزہ خیر سگالی دورےپرکراچی پہنچا ہے، دورے کا مقصد دو طرفہ بحری تعاون کا فروغ اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہے ۔
دورے کے دوران دونوں بحری افواج کے اہلکاروں کے مابین پیشہ ورانہ ملاقاتیں اور مشترکہ مشقیں منعقد کی جائیں گی۔
رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ 1.
اٹالین بحریہ کے جہازوں کی باقاعدگی سے پاکستان آمد باالعموم پاکستان اور اٹلی کے دو طرفہ تعلقات اور بالخصوص دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے بحری تعاون کی مظہر ہے۔
پاکستان نیوی اہم بین الاقوامی نیویز سے دیر پا بحری تعاون کے فروغ کےلئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے۔
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان نیوی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔