Jasarat News:
2026-06-03@08:41:47 GMT

ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش بڑی غلطی ہوگی؛ فرانس

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش بڑی غلطی ہوگی؛ فرانس

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کینیڈا میں جاری جی-سیون اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر میکرون نے بتایا کہ امریکا نے ایران کو جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنے کی پیشکش کی ہے، اور اب پوری دنیا ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔

فرانسیسی صدر نے خبردار کیا کہ ایران کی حکومت کو زبردستی گرانے کی کوئی بھی کوشش ایک “اسٹریٹجک غلطی” ثابت ہوگی، کیونکہ ماضی میں اس طرح کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران امریکا کی اس پیشکش کو قبول کر لیتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی-سیون اجلاس کو ادھورا چھوڑ کر وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ چار روز قبل اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے جن میں اعلیٰ فوجی افسران سمیت چھ ایٹمی سائنسدان ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل پر شدید حملے کیے، جن میں اب تک 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ ایران میں بھی ہلاکتوں کی تعداد 24 سے تجاوز کر گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام