سکھر،پولیس کا ڈاکوؤں کیخلاف بڑا آپریشن ، متعدد کمین گاہیں نذر آتش
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر پولیس کا ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن، متعدد کمین گاہیں نذر آتش، ضلع سکھر کے کچے کے علاقے باگڑجی میں پولیس کی بھاری نفری نے منظم اور بھرپور آپریشن کرتے ہوئے ڈاکوؤں کی متعدد کمین گاہوں کو نذر آتش کردیا۔ آپریشن میں جدید اسلحے، بکتر بند گاڑیوں اور خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں نے حصہ لیا۔تفصیلات کے مطابق پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد پولیس نے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے اور علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ ایک ٹارگیٹڈ آپریشن تھا، جس کا مقصد کچے کے علاقے کو جرائم پیشہ عناصر سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے۔ایس ایس پی سکھر اظہر خان نے کہا کہ پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور اہلکار ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکو جرائم کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ہتھیار پھینک دیں، ریاست ان کی ہر ممکن قانونی مدد کرے گی، بصورت دیگر ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ایس ایس پی سکھر کا کہنا تھا کہ جب تک کچے کا علاقہ مکمل طور پر ڈاکوؤں سے پاک نہیں ہوجاتا، آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں تاکہ دیرپا امن کو یقینی بنایا جاسکے۔پولیس حکام نے بتایا کہ جلد ہی علاقے میں مزید سرچ آپریشنز کیے جائیں گے تاکہ باقی بچ جانے والے جرائم پیشہ عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔