Jasarat News:
2026-07-24@04:38:48 GMT

میرپورماتھیلو،ڈی آئی جی سکھر کی زیرصدارت اجلاس

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورماتھیلو(نمائندہ جسارت) محرم الحرام کے ایام میں امن وامان کے سلسلے میں جامع حکمت عملی تشکیل دینے کی غرض سے کانفرنس ہال ڈی آئی جی آفس سکھر میں خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں سکھر رینج کے تینوں اضلاع سکھر ،خیرپور و گھوٹکی سے شیعہ رہنماؤں ،سید رکھیل شاہ،سید مسرور شاہ ، بابر ابڑو ضلع سکھر سید ناصر شاہ، سید دربار علی شاہ ضلع خیرپور،مولوی اختر علی لونڈ،عبدالجبار حسینی،ارباب علی لونڈ ضلع گھوٹکی سمیت ضلع سکھر،خیرپور اور گھوٹکی کے ڈی آئی بی انچارجز اور پی ایس اشفاق لغاری نے شرکت کی۔محرم الحرام کے حوالے سے میٹنگ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا ۔بعد ازاں محرم الحرام کے دوران منعقد ہونے والی مجالس اور جلوسوں کی سیکورٹی و دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ مجالس و جلوسوں کے مجموعی سیکورٹی انتظامات سمیت ممکنہ درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے تفصیلی گفتگو کی گئی،اس ضمن میں تمام شرکاسے فرداً فرداً مسائل دریافت کیے اور محرم الحرام کے دوران سابقہ تجربات کی روشنی میں نشاندھی کردہ کم و بیشی و مزید بہتری کی تجاویز کو زیرِ غور لاتے ہوئے ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے جانے کا یقین دلایا۔ڈی آئی جی سکھر نے تمام شرکاکو سیکورٹی کے حوالے سے فول پروف اقدامات کرنے اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن وامان بحال رکھنا اہم ترجیح ہے اس حوالے سے فول پروف سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے،تمام امام بارگاہوں پر سینئر پولیس افسران کی زیرِ نگرانی سیکورٹی کے بہترین انتظامات یقینی بنائے جائیں گے، عزاداری کے جلوسوں کی تمام گزگاہوں کو محفوظ بنانے کیلئے روٹس کی سویپنگ اور سرچنگ کے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، مزید برآں عزاداری تنظیموں کی طرف سے مقرر کردہ مرد اسکاؤٹس و رضا کار لیڈیز کی بھی سینئر پولیس افسران کی زیر نگرانی میں محرم الحرام کے حوالے سے جلوسوں و مجالس کی سیکورٹی کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے،خواتین کی مجالس پر لیڈیز پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سمیت رضا کار خواتین کو بھی مقرر کرنا پلان کا حصہ ہے،کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری ردعمل دینے کیلئے ریپڈ رسپانس فورس کے کثیر تعداد میں خصوصی دستے موجود رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محرم الحرام کے کے حوالے سے ڈی ا ئی

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس