امریکا ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر سکتا ہے: جرمن چانسلر
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں جلد کمی نہ ہوئی اور ایران مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو امریکا ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر سکتا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں فریڈرک مرز نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے پاس ایرانی جوہری پروگرام تباہ کرنے کی صلاحیت ہے نہ مطلوبہ ہتھیار لیکن امریکا کے پاس یہ صلاحیت اور ہتھیار ہیں۔
جرمن چانسلر نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی حکومت کمزور پڑ چکی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ غیر مشروط ہتھیار ڈالو۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے موڈ میں نہیں ہیں.
وائٹ ہاؤس میں امریکی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے تاہم اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
امریکا کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اچھے فضائی ٹریکرز اور دیگر دفاعی ساز و سامان موجود تھا لیکن ایران کا ساز و سامان امریکی سامان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔