مشیر برائے ماحولیات کا ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ ہول سیل مارکیٹوں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپور خاص (نمائندہ جسارت) وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی دوست علی راہموں کی ہدایت پر سیکرٹری ماحولیات آغا شاہنواز خان، ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار حسین پھلپوٹو؛ اور ڈپٹی ڈائریکٹر وریجنل انچارج سیپامیرپورخاص محمد صہیب راجپوت ڈسٹرکٹ آفیسر عبدالعزیز مہر نے میرپورخاص کے مختلف علاقوں میں پلاسٹک تھیلیوں کے ہول سیلرز اور مختلف برانڈ دکانوں کا اچانک معائنہ کیا اور سندھ حکومت کی جانب سے پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پہلے سے نافذ کردہ پابندی کی روشنی میں تھیلیوں کا وزن موٹائی یا رنگ سے قطع نظر سیپا ٹیم نے میرپورخاص کے اہم تجارتی علاقوں بشمول میرواہ روڈ، ہلال مارکیٹ، بلدیہ مارکیٹ، سبزی منڈی روڈ، اناج منڈی اور حیدرآباد روڈ میں تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع معائنہ مہم چلائی کیمسٹ مس حمیرا، فیلڈ سپروائزرز سید انتظار حسین اور مس سمرین، انوائرمنٹل انسپکٹر محسن پر مشتمل معائنہ ٹیم نے ماحولیاتی ضوابط کی پابندی کا جائزہ لینے کے لیے متعدد ہول سیل دکانداروں کا دورہ کیادورے کے دوران یہ دیکھا گیا کہ زیادہ تر ہول سیلرز نے پابندی کی مکمل خلاف ورزی کی تھی جبکہ دو بڑے دوکانداروں نے ماحولیاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پلاسٹک بیگ کے کاروبار کو پہلے ہی بند کر دیا تھا ٹیم نے ان مقامات سے پلاسٹک بیگ کے نمونے اکٹھے کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔