شہر کی 20 مرکزی سڑکوں پر رکشوں کے داخلے پر پابندی میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے شہر کی 20 مرکزی سڑکوں پر رکشوں کے داخلے پر عائد پابندی میں مزید دوماہ کی توسیع کردی ہے۔ کراچی میں ٹریفک کی روانی بہتر کر نے کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک نے کمشنر کراچی سے درخواست کی تھی کہ شہر کی مرکزی سڑکوں پر کمرشل بنیاد پر چلنے والے 3 سیٹر اور5 سیٹر رکشوں پر پابندی عائد کی جا ئے۔کمشنر کراچی نے ڈی آئی جی ٹریفک کی درخواست پر شہر کی مرکزی سڑکوں پر رکشوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم اب اس میں مزید دو ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شاہراہ فیصل، شاہراہ قائدین، آئی آئی چندریگر روڈ، شیرشاہ سوری روڈ، شہیدملت روڈ، عبداللہ ہارون روڈ، دوتلوار شاہراہ فردوس، اسٹیڈیم روڈ، سرشاہ سلیمان روڈ، راشدمنہاس، ماڑی پورروڈ، شاہراہ پاکستان، حب ریور روڈ، قائدآباد سے لانڈھی89، یونیورسٹی روڈ، کورنگی روڈ، اورنگی روڈ، سپرہائی وے سے ملیرہالٹ، سرجانی عبداللہ چوک کی سڑکوں پر 3 سیٹر اور 5 سیٹر رکشوں کے داخلوں پر مکمل پابندی آئندہ دو ماہ تک مزید رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرکزی سڑکوں پر رکشوں کے شہر کی
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔