ایران میں اسرائیلی حملے سے شہادتوں کی تعداد 585 تک جا پہنچی، 1326 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایران میں اسرائیلی حملے سے شہادتوں کی تعداد 585 تک جا پہنچی، 1326 زخمی WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن ڈی سی میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایران بھر میں کم از کم 585 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 1326 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
تنظیم کے مطابق مرنے والوں میں 239 عام شہری اور 126 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں جبکہ دیگر کی شناخت جاری ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال حملوں کے بعد باقاعدہ اموات کی اپ ڈیٹ جاری نہیں کی جا رہی، آخری بار پیر کو جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 224 افراد کی ہلاکت اور 1277 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔
ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں موجود اپنے ذرائع اور مقامی رپورٹس کو باہم ملا کر تصدیق شدہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔
اس تنظیم کو 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی درست اور تفصیلی اعداد و شمار دینے پر عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوئی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتاریخ اور تلخیاں مودی نے ٹرمپ سے کہا ہے بھارت پاکستان سے تنازع پر کبھی ثالثی قبول نہیں کریگا، وکرم مسری ہم صیہونیوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای آپریشن وعدہ صادق سوم! دسویں لہر کا آغاز، ایران کا اسرائیلی فضاؤں پر کنٹرول کا دعویٰ ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، چینی صدر روس کی ایران ، اسرائیل جنگ میں ثالثی اور ایرانی افزودہ یورینیم کو اپنے ملک میں محفوظ رکھنے کی پیشکش ہمیں پتا ہے ایرانی سپریم لیڈر کہاں ہیں لیکن ابھی نشانہ نہیں بنانا چاہتے ، ٹرمپ کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔