اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، اور ایک بیرل کی قیمت 76.45 ڈالر تک جا پہنچی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا جنگ میں شریک ہوا تو ایران و اتحادیوں کا جواب کیسا ہوگا؟

یہ اضافہ اُس وقت سے ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے اسرائیل نے ایران پر میزائل حملے شروع کیے۔

رشیا ٹوڈے کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات بتائے جا رہے ہیں جو انہوں نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر دیے۔ ان میں انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ’آسان ہدف‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔

آبنائے ہرمز

ماہرین کا کہنا ہے کہ منڈی میں زیادہ تر خدشات ہرمز کے تنگ سمندری راستے کی بندش کے امکان پر مبنی ہیں۔ ہرمز کی خلیج دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی فراہمی کا راستہ ہے، اور اس کا شمالی کنارہ ایران کی ملکیت ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر اسماعیل کوثری نے کہا ہے کہ ایران اس سمندری راستے کو بند کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

عراق کا انتباہ

عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں مکمل جنگ چھڑ گئی تو تیل کی قیمتیں 200 سے 300 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔

تیل بردار جہازوں میں تصادم

اسی دوران گزشتہ روز ہرمز کے قریب 2 تیل بردار جہاز آپس میں ٹکرا گئے، جس سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم کسی قسم کا جانی نقصان یا تیل کا اخراج نہیں ہوا۔

 متحدہ عرب امارات کی کوسٹ گارڈ نے مطابق انہوں نے ایک جہاز ’ادالین‘ سے 24 افراد کو بحفاظت نکالا، جبکہ دوسرے جہاز ’فرنٹ ایگل‘ پر لگی آگ پر قابو پالیا گیا۔

’الیکٹرانک مداخلت‘

اگرچہ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے ’ایمبری‘ نے اس تصادم کو ایک حادثہ قرار دیا ہے جس کا تعلق براہِ راست کشیدگی سے نہیں، تاہم رائٹرز کے مطابق اسرائیل اور ایران کے تنازعے کے باعث علاقے میں ’الیکٹرانک مداخلت‘ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو نیویگیشن میں مسائل پیدا کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ جمعے کو ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے تاکہ تہران کو مبینہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے، جس کے جواب میں ایران نے بھی میزائل داغے۔ تب سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پورا خطہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پیٹرول پرائس تیل ٹرمپ خامنہ ای رشیا ٹوڈے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران پیٹرول پرائس تیل خامنہ ای تیل کی رہا ہے

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار