ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ’بنکر بسٹر بم‘ کن صلاحیتوں کے حامل ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
بنکر بسٹر عمومی اصطلاح ہے جو ایسے بموں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو زمین کی سطح سے گہرائی میں داخل ہو کر پھٹنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس وقت امریکا کے ہتھیاروں کے ذخیرے میں موجود سب سے طاقتور ’بنکر بسٹر بم‘GBU-57A/B Massive Ordnance Penetrator ہے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق یہ بم قریباً 13,600 کلوگرام وزنی اور جدید رہنمائی نظام سے لیس ہے، جو زمین کے نیچے موجود سخت اور گہرے بنکروں اور سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بم زمین کی سطح سے قریباً 60 میٹر گہرائی تک گھس کر دھماکا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک کے بعد ایک ایسے کئی بم گرائے جائیں تو وہ ہر دھماکے کے ساتھ مزید اندر گہرائی میں جاتے ہیں، یوں یہ عملاً ڈرلنگ کی طرح کام کرتے ہیں۔
زمینی کمانڈو حملے یا ایٹمی حملے کے علاوہ فرود جیسی گہرائی میں واقع ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ یہی بم تصور کیا جا رہا ہے۔ اسٹریٹجک تجزیہ کار مائیکل شو بریج کے مطابق اسرائیل کے پاس اس طرز کے گہرے بنکر بسٹر ہتھیار موجود نہیں۔ ان کے بقول، اسرائیل کے پاس صرف 2,270 کلوگرام وزنی بم دستیاب ہیں، جبکہ فرود جیسے ہدف کے لیے 13,600 کلوگرام وزنی بم درکار ہے جو صرف امریکا کے پاس موجود ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی بے بسی بڑھنے لگی، ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے صلاحیتیں ناکافی
نظری طور پر کوئی بھی ایسا بمبار طیارہ جو اس وزن کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو، یہ بم لے جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی فضائیہ کے مطابق فی الحال صرف B-2 Spirit اسٹیلتھ بمبار کو اس بم کی ترسیل کے لیے تیار اور پروگرام کیا گیا ہے۔
یہ بم اگرچہ روایتی وار ہیڈ رکھتا ہے، لیکن بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی فرود تنصیب پر اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم تیار کیا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے خدشہ ہے کہ اگر GBU-57A/B سے اس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا تو تابکاری مواد علاقے میں پھیل سکتا ہے۔
البتہ IAEA کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے نطنز کے سنٹری فیوج مرکز پر کیے گئے حملے کے بعد تابکاری آلودگی صرف اسی مقام تک محدود رہی تھی، ارد گرد کے علاقے متاثر نہیں ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ’بنکر بسٹر بم‘ ایرانی جوہری تنصیبات بنکر بسٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی بنکر بسٹر بم ایرانی جوہری تنصیبات ایرانی جوہری گہرائی میں کے لیے
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر