مسلم ممالک فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں؛ اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
سٹی 42: وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسلم ممالک ایران کی سلامتی، علاقائی خود مختاری اور آزادی کی حمایت کرتے ہیں، مسلم ممالک فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کے حوالے سے اکیس مسلم ملکوں نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے، مسلم ملکوں کے وزراء خارجہ نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13جون کو اسرائیل نے عالمی قوانین کے خلاف ایران پر حملہ کیا۔
ریلوےحکام کاٹرین کرایوں میں3فیصداضافےکافیصلہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ کی حمایت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک ایٹمی عدم پھیلاو کے معاہدے پر دستخط کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کو بھی سخت خطرہ ہے، پاکستان سمیت مسلم ملکوں نے یہ قراداد منظور کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مسلم ممالک اسحاق ڈار نے کہا کہ کرتے ہیں
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔