حکومت نے عوام کا بڑا مطالبہ مان لیا، سولر پینلز پر ٹیکس میں کمی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت نے سولر پینلز پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سولر سسٹمز کے لیے استعمال ہونے والا 46 فیصد سامان درآمد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ خزانہ کمیٹی نے بھی سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز مسترد کردی
سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہاکہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے اور حکومت نے بجٹ سے متعلق بعض تجاویز پر نظرثانی کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بجٹ کے حوالے سے اتحادی جماعتوں سے مسلسل مشاورت جاری ہے اور گزشتہ روز اس ضمن میں 6 سے زیادہ نشستیں کی گئیں۔
ڈیجیٹل ٹیکس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اس حوالے سے کچھ غلط فہمیاں پائی جا رہی تھیں، تاہم واضح رہے کہ ڈیجیٹل سروسز پر سیلز ٹیکس صوبوں کا اختیار ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ چاروں صوبوں میں پی آئی ڈی سی ایل منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جو پی ڈبلیو ڈی کا متبادل ادارہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے محصولات میں ممکنہ کمی کے ازالے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے سندھ کی جامعات کے لیے فنڈز میں اضافے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ ہم سب کو مل کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں نئے ٹیکس عائد ہونے کے بعد سولر پینلز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوگا؟
عالمی امور پر بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ روز اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے دو درجن سے زیادہ ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان تمام رکن ممالک کی متفقہ رائے کا مظہر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسحاق ڈار ٹیکس میں کمی حکومت پاکستان سولر پینلز عوامی مطالبہ نائب وزیراعظم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ٹیکس میں کمی حکومت پاکستان سولر پینلز عوامی مطالبہ وی نیوز سولر پینلز اسحاق ڈار انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔