عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین کی واپسی کا عمل شروع کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
BAGHDAD:
عراق میں پھنسے 415 پاکستانی زائرین کی خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
عراق میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان نے بتایا کہ خصوصی پروازوں کے ذریعے زائرین کو کراچی اور اسلام آباد پہنچانے کا عمل جاری ہے، عراقی ایئر ویز کی مزید دو خصوصی پروازیں زائرین کی واپسی کے لیے آج اور کل روانہ ہوں گی۔
ترجمان پاکستانی سفارت خانہ نے بتایا کہ نجف میں 250 پاکستانی زائرین کے لیے عارضی رہائش اور تین وقت کے کھانے کا انتظام کیا گیا ہے، پاکستانی سفارت خانے نے کویت کے ذریعے سفر کرنے والے زائرین کے لیے ٹرانزٹ سہولیات کی فراہمی کا بندوبست بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں تمام پاکستانی زائرین کی جلد، محفوظ اور باوقار وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور عراقی ایئر ویز کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی زائرین کی واپسی یقینی بنائی جا سکے۔
پاکستانی سفارت خانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ سفارت خانے نے زائرین کی فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن اور واٹس ایپ گروپ قائم کر دیا ہے اور زائرین ان نمبرز پر 009647834950311 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
حکام کی جانب سے ایران سے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے بھی خصوصی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مذکورہ پاکستانیوں کو عراق کے راستے پاکستان لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی زائرین کی پاکستانی سفارت کی واپسی کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔