کراچی میں پلاسٹک کے شاپرز کے استعمال اور فروخت کیخلاف کریک ڈاؤن، 12 ٹن تھیلے ضبط
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ہدایت پر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے شہر بھر میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال اور فروخت کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق میئر کراچی کی ہدایت پر شروع کی جانے والی یہ مہم 15 جون 2025 سے نافذ ہونے والی سرکاری پابندی کے بعد شروع کی گئی ہے۔
انسداد تجاوزات سینئر افسران کی نگرانی میں مختلف بازاروں اور تجارتی علاقوں میں ہدفی کارروائیاں کر رہا ہے۔ اب تک دکانداروں اور تاجروں سے 12 ٹن سے زائد پلاسٹک بیگز ضبط کیے جا چکے ہیں جو پابندی کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔
ٹیموں نے متعدد دکانوں کو وارننگ بھی جاری کی ہے اور ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
میئر کراچی نے اس بات پر زور دیا کہ پلاسٹک شاپرز کا استعمال شہر کے نکاسی آب کے نظام، ماحولیات اور سمندری حیات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم پائیدار متبادل کو فروغ دینے اور کراچی کو صاف و سرسبز بنانے کے ویژن کا حصہ ہے، پلاسٹک پر پابندی کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ترجمان بلدیہ عظمی کراچی دانیال سیال نے کہا کہ “ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معائنوں میں مزید تیزی لائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کریں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ کریک ڈاؤن اگلے کئی روز میں بھی جاری رہے گا، اور تمام بڑے بازاروں، سپر مارکیٹس اور تھوک فروش مراکز پر نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کہا کہ شہریوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کپڑے، جوٹ اور دیگر ماحول دوست متبادل استعمال کر کے اس مہم کا ساتھ دیں۔
یہ اقدام ماحولیاتی ذمہ داری اور شہری پائیداری کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو کراچی کو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے پلاسٹک آلودگی میں کمی کے ہدف کی جانب گامزن کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خلاف ورزی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔