امریکی صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں ظہرانہ،کشمیر پر امریکی ثالثی قبول نہیں،بھارت
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن / نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات‘ ایران اسرائیل جنگ‘ مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت کشیدگی ‘تجارتی معاہدوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پربات چیت‘ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے انہیںجنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے مدعو کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اوربھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں ، صدر
ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان سے تجارتی معاہدوں پر بات ہوئی ہے اور مزید بھی ہوگی‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عہدیداروں سے ایران کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے۔آرمی چیف سے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کی بھی ملاقات ہوئی ‘عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی صدر نے پاکستان کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان بہت پسند ہے اور وہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مسئلہ کشمیر پر امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے جواب میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت نے کبھی ثالثی قبول نہیں کی، نہ آئندہ کرے گا۔ادھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی براہ راست دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مذاکرات سے ممکن ہوئی نہ کہ امریکا کی کسی ثالثی سے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے یہ دو ٹوک مؤقف جی 7 سمٹ کے موقع پر کینیڈا میں ہونے والی فون کال کے دوران پیش کیا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار وکرم مسری کے مطابق وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو واضح کیا کہ پاکستان کی جنگ بندی کے دوران نہ تو بھارت امریکا تجارتی معاہدے پر کوئی بات ہوئی اور نہ ہی کسی بھی مرحلے پر امریکا کی ثالثی کا کردار تھا۔وزیر اعظم مودی نے کہاکہ بھارت نے کبھی بھی کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ کرے گا۔وزیر خارجہ وکرم مسری کا کہنا تھا کہ جنگ بندی سے متعلق تمام بات چیت بھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین براہ راست، پہلے سے موجود فوجی روابط کے ذریعے ہوئی اور اس کی ابتدا پاکستان کی جانب سے کی گئی۔یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی امریکی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی اور انہوں نے دونوں ممالک کو جنگ کے بجائے تجارت پر توجہ دینے کا مشورہ دیا تھا، بھارت نے اس دعوے کی فوری تردید کر دی تھی۔ واضح رہے کہ 7 تا 10 مئی 2025 کے درمیان بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری اور فضائی کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کی افواج نے ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بھی معترف رہے ہیں۔بھارت کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی اعلیٰ فوجی اور سیاسی قیادت کی فہم و فراست کی تعریف کی تھی۔امریکی صدر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کے کردار کی پیشکش بھی کی تھی اور اپنے پہلے دورِ اقتدار میں بھی پاکستان کو دوست ملک قرار دے چکے ہیں۔جنوبی ایشیا کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت امریکی صدر کا یہ اعتماد بلین ڈالرز کی تجارت کے باوجود حاصل نہیں کرسکا ہے۔علاوہ ازیںامریکی صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا اور ایک گھنٹہ طویل ملاقات کی‘ بعد ازاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر پاکستان کی فیلڈ مارشل ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے امریکی صدر کہ پاکستان کے درمیان کہ بھارت کی ثالثی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔