Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:29:57 GMT

بھارتی فلم اسٹار کے گھر چوری کی واردات، چور اپنا نکلا؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

بھارتی فلم اسٹار کے گھر چوری کی واردات، چور اپنا نکلا؟

جرائم سے کون ہی شخص اس دنیا میں بچ سکتا ہے اور جب بات ہو کسی امیر انسان کی تو اس کو چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کا اکثر سامنا کرنا ہی پڑتا ہے کیونکہ صرف چور اور ڈکیتوں کی کیا بلکہ اس کے ارد گرد موجود لوگوں کی بھی اس کی مال و دولت پر نظر ہوتی ہے۔

بھارت میں بھی ایک فلم سٹار ایسی ہی ایک واردات کا شکار ہوئے ہیں جن کو لوٹنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ رہنے والا ہی شخص تھا۔

چور کے ہاتھوں اپنی دولت کھونے والے کوئی اور نہیں بلکہ بھارتی فلم سٹار تنوج وروانی ہیں جنہوں نے اس واقعے کے بارے میں لب کشائی بھی کی ہے۔

تنوج وروانی نے 2013 میں فلم ‘لَو یو سونیو’ سے بالی وڈ کی دنیا میں قدم رکھا جس کے بعد 2014 میں ‘پرانی جینز’ سے اپنی پہچان بنائی لیکن 2017 ویب سیریز ‘انسائیڈ ایج’ سے انکا خاص پہچان ملی۔

تنوج وروانی نے زندگی میں پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ بتایا جس نے انکو گہرا صدمہ پہنچایا اور انہیں آج بھی اس کے بارے میں سوچ کر دھوکا ملنے کی تکلیف ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر چوری کرنے والا شخص انکا اسپاٹ بوائے تھا جو ان کے ساتھ ‘انسائیڈ ایج’ کے دنوں سے کام کر رہا تھا، وہ عموماً انکے ساتھ ہی رہتا تھا اور کھانا پینا بھی ساتھ ہی کرتا تھا۔’

تنوج وروانی نے انکشاف کیا کہ ‘انہیں اس واقعے سے زیادہ دکھ اس لیے پہنچا کیوں کہ اس شخص کو برابری کا درجہ دیا تھا اور اپنے خاندان کے لوگوں جیسا ہی سمجھتا تھا لیکن اس نے دھوکا دے دیا۔’

تنوج نے بتایا کہ چوری کا سلسلہ جیکٹس اور والد کی قیمتی گھڑیوں سے شروع ہوا لیکن پھر چوری کا اندازہ اس دن ہوا جب وہ برطانیہ سے واپس لوٹے اور دیکھا کے کچھ پیسے غائب ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘میرا تعلق اس فیملی سے ہے جہاں چیزوں کو تالوں میں بند نہیں کیا جاتا کیونکہ سب کا ایک دوسرے پر اعتماد ہے، اس چوری کی وجہ اسپاٹ بوائے کا شراب نوشی کا عادی ہونا تھا’۔

تنوج نے مزید بتایا کہ ‘ یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ بھروسہ ٹوٹنا بھی تھا جس نے میرے گھر کا سکون چھین لیا، میرے گھر میں میری ماں، بیٹی اور اہلیہ رہتی ہیں، نشے کے عادی شخص کو انکے آس پاس بھی آنے نہیں دے سکتا، میں اکلوتا بیٹا ہوں اس لیے میں لوگوں سے جلد قریبی تعلقات بنا لیتا ہوں، اس کو دل سے محبت دی تھی اس لیے مجھے غصے سے زیادہ غم ہے۔’

تنوج نے یہ بھی بتایا کہ ‘وہ کام پر تھے جب والد نے پولیس سے رابطہ کیا، اسپاٹ بوائے کے بیگ سے غیر ملکی کرنسی، پرفیومز اور دیگر چوری شدہ اشیاء برآمد ہوئیں لیکن قیمتی گھڑیاں اب تک نہیں مل سکیں، اسپاٹ بوائے نے اعتراف جرم کر لیا اور پولیس کی تحویل میں ہے۔’

انہوں نے حفاظتی اقدام کے حوالے سے بتایا کہ ‘وہ اب تک پرائیوٹ سکیورٹی رکھنے کا فیصلہ نہیں کرسکے ہیں کیونکہ وہ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور انکے اقدار بھی مڈل کلاس فیملیز والے ہی ہیں، انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب اسٹاف رکھتے ہوئے احتیاط کریں گے۔’

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تنوج وروانی انہوں نے بتایا کہ

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار