Express News:
2026-06-03@04:42:53 GMT

کیا کوئی اس جنگ کو روک سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران اور اسرائیل جنگ جاری ہے۔ اسرائیل نے ایران پر جارحیت کی ہے۔ امریکا اور بھارت کے سوا پوری دنیا اسرائیل کی مذمت کر رہی ہے۔ پاکستان نے ایران کی غیرمعمولی سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پاکستان نے ایران کی غیر معمولی حمایت کی ہے۔

ایران کے صدر نے ایران کی پارلیمان میں اپنے خطاب میں پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ روس اور چین نے بھی ایران پر اسرائیلی جارحیت کی کھلے الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 1973کے بعد پہلی دفعہ اسرائیل کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے اسرائیل نے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں۔ اسے کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں رہا ہے۔

حماس کے خلاف لڑائی میں اسرائیل کو کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ اسی طرح حزب اللہ اور شام میں بھی اسرائیل کو کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ لیکن ایران نے اسرائیل کو قابل ذکر مزاحمت دی ہے۔ ایران کے میزائیل اسرائیل تک پہنچے ہیں۔ انھوں نے وہاں قابل ذکر نقصان کیا ہے۔ اسرائیل سے ہلاکتوں اور بلڈنگ کے تباہ ہونے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔

اسرائیل نے اپنے میڈیا میں ایران کے میزائیلوں سے ہونے والے نقصان کی کوریج پر پابندی لگا دی ہے۔ اب وہاں سے نقصان کی فوٹیج آنا بند ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے شہری اسرائیل چھوڑ کر جانے لگے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے شہریوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل میں ایرانی میزائیل کا خوف سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ لوگ ڈر گئے ہیں، لوگ حفاظتی بنکرز میں راتیں گزار کر بھی تھک گئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران یہ جنگ جیت گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے ایک قابل ذکر مزاحمت کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی بھی ایران پر بمباری جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ گزشتہ روز تہران میں اسرائیل کے خلاف مظاہرہ ہوا ہے، لوگوں میں جوش و خروش تھا۔ اسرائیل کی بمباری سے تہران اور پورے ایران میں بہت تباہی ہوئی ہے۔ اسرائیل کی نسبت ایران کا جانی نقصان بھی زیادہ ہوا ہے۔ اس کا ویسے بھی نقصان زیادہ ہوا ہے۔ تقابلی جائزہ میں یقیناً ایران کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل کو برتری ہے۔ لیکن جواب میں ایران نے اسرائیل کا جتنا بھی نقصان کیا ہے۔ وہ بھی قابل ذکر ہے۔

ایران کا بڑا مسئلہ تہران اور ملک بھر میں موجود موساد کا نیٹ ورک ہے۔ ایران کا جتنا بھی نقصان ہوا ہے اس میں ایران میں موجود موساد کے نیٹ ورک کا بڑا ہاتھ ہے۔ ایران کی فوجی قیادت اور سائنسدانوں کی شہادت کی وجہ بھی ایران میں موجود موساد کا نیٹ ورک ہی تھا۔ اب بھی ایران کے لیے اسرائیلی جارحیت سے زیادہ بڑا مسئلہ ایران کے اندر موساد کا نہایت موثر نیٹ ورک ہے۔ موساد کا اتنا مضبوط نیٹ ورک یقیناً ایران کی ناکامی ہے۔

یہ نیٹ ورک کوئی ایک دن میں نہیں بنا ہے۔ جب اسرائیل نے حماس کے سربراہ کو تہران میں شہید کیا تھا تب ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ موساد کا ایران میں نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔ اب بھی اسرائیل نے دوبارہ یہ بات واضح کی ہے کہ اس کا ایران میں جاسوسی نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔

ایران نے اب تک یہ کوشش کی ہے کہ امریکا کو اس لڑائی سے دور رکھا جائے۔ اس لیے اسرائیلی حملہ سے پہلے ایران یہی کہہ رہا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو ایران خطہ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ لیکن جنگ کے کئی دن بعد میں ایران نے کسی بھی امریکی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال اس کی کوشش ہے کہ امریکا کواس جنگ میں شامل نہ کیا جائے۔ وہ اکیلے اسرائیل کے ساتھ لڑنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل ضرور امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ جنگ میں ساتھ شامل ہو۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسا کونسا کام ہے جو اسرائیل اکیلا نہیں کر سکتا اور اس کو امریکا کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کے پاس ساری جنگی ٹیکنالوجی موجود ہے۔امریکا آکر کیاکرے گا جو اسرائیل خود نہیں کر سکتا۔ یہ اہم سوال ہے۔ آخر اسرائیل کیا چاہتا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکا کے ساتھ شامل ہونے سے اسرائیل پر سفارتی دباؤ کم ہو جائے گا۔اس کی سفارتی اور سیاسی تنہائی کم ہو جائے گی۔ یقیناً امریکا کے ساتھ شامل ہونے سے جنگ تیز ہو جائے گی۔ لیکن دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں سب سے بڑا مسئلہ ایرانی کی فردو میں نیوکلیئر سائیٹ ہے۔ یہ پہاڑوں کے نیچے ہے۔ وہاں اسرائیلی بم نہیں پہنچ سکتے۔ وہاں مارنے والے بم صرف امریکا کے پاس ہیں۔

امریکا اپنے طیارے جو یہ بم مار سکتے ہیں خطہ میں لے آیا ہے۔ لیکن یہ بم کب مارے گا یہی سوال ہے۔ سوال فردو کو تباہ کرنے کا ہے۔ جب امریکی صدر کہتے ہیں کہ ہم نیوکلیئر سائیٹ تباہ کریں گے تو یقیناً فردو کی ہی بات ہو رہی ہوتی ہے۔ کیا تہران اسرائیل کے ساتھ ایک لمبی لڑائی لڑ سکتا ہے۔ یہ اہم سوال ہے۔ ایران کے پاس میزائیلوں کا محدود ذخیرہ ہے۔ اس کی نئے میزائیل بنانے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ وہاں بمباری ہوئی ہے۔ اس وقت نئے میزائیل کی پروڈکشن بند ہو گئی ہے۔ جو میزائیل موجود ہیں ان کی تعداد محدود ہے۔ لوگ تین ہزار میزائیل کی بات کر رہے ہیں۔

اس میں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران نے ایک ہزار استعمال کر لیے ہیں۔ اس لیے پہلے ایران روزانہ دو سو میزائیل چلا رہا تھا۔ اب تیس سے پچاس چلا رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ سب نہیں اسرائیل پہنچتے، امریکا ان میزائلوں کو روکنے میں اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن پھر بھی میزائیل پہنچتے ہیں، کم پہنچ رہے ہیں۔ اس لیے ایران ایک لمبے عرصہ تک یہ میزائیل نہیں چلا سکتا۔ پھر ختم ہو جائیں گے، پھر کیا ہوگا۔ اس لیے لمبی لڑائی ایران کے حق میں نہیں لیکن سیز فائر کی کوئی صورتحال نظر نہیں آرہی۔ آج تک غزہ میں سیز فائر نہیں ہوا۔ آج سیز فائر ایران کی فتح سمجھا جائے گا۔

آج سیز فائر اسرائیل اور امریکا کی شکست قرار دیا جائے گا۔ ایک عمومی رائے یہی ہوگی کہ ایران نے خوب مقابلہ کیا۔ میزائیل مارے اور اسرائیل اور امریکا کو سیز فائر پر مجبور کر دیا۔ اسی لیے امریکی صدر نے ٹوئٹ کیے ہیں کہ ایران کا غیر مشروط سرنڈر چاہیے۔ یہ غیر مشروط سرنڈر کیا ہوگا۔ کیا نیوکلیئر سائٹس کی تباہی کے بعد جنگ بند ہو جائے گی۔ مجھے نہیں لگتا۔ پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ غیر مشروط سرنڈر کیا ہے۔ کیا ایران میں رجیم چینج غیر مشروط سرنڈر ہوگا۔

کیا وہاں رجیم چینج کا کوئی منصوبہ موجود ہے۔ جو ایک دم سامنے آئے گا۔بار بار کہا جا رہا ہے کہ خامنائی کو ہم مار سکتے ہیں مار نہیں رہے۔ کیا خامنائی کو مارنے کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔

کیا اس کے لیے ماحول کو تیار کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم انھیں مار سکتے ہیں مار نہیں رہے۔ آگے کیا ہوگا۔ شاید اچھا نہیں ہوگا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اور کوئی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم اسرائیل کو روک نہیں سکتا۔ امریکا روک سکتا ہے لیکن وہ روکنا نہیں چاہتا۔ باقی کسی میں اتنی طاقت نہیں۔ سب بیان جاری کر سکتے ہیں۔ کوئی اس جنگ کو روک نہیں سکتا۔ جیسے کوئی غزہ اور لبنان میں نہیں روک سکتا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مزاحمت کا سامنا اسرائیل کے اسرائیل کو اسرائیل کی اسرائیل نے ایران میں میں ایران بھی ایران جا رہا ہے ایران نے موساد کا سیز فائر ایران کے سکتے ہیں ایران کا نے ایران امریکا ا نقصان کی کہ ایران ایران کی ہو جائے کے ساتھ نیٹ ورک کو روک کیا ہے ہیں کہ اس لیے ہو گئی ہوا ہے

پڑھیں:

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی

امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔

اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔

اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟

یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔

کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟

راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار

ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔

متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔

جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ