بڑی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی آدھی اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھ گیا، ’عام آدمی کیا کرے‘
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2025 سے 2026 کے لیے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا تو اپوزیشن اور عام عوام اس پر سیخ پا نظر آئے۔ صارفین کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بعد عام آدمی کو ٹیکس کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا اور اب پاکستان میں رہنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
جہاں ہر طبقہ مہنگائی اور نئے ٹیکسز سے پریشان ہے وہیں آٹو انڈسٹری بھی حکومت پر برس پڑی۔ آٹو موبیل ایکسپرٹ اور پاک ویلز کے شریک بانی سنیل منج نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام استعمال کی امپوڑٹڈ گاڑیاں خریدنے والے صارفین کے لیے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ہے جبکہ مہنگی بڑی امپورٹڈ گاڑیوں پر حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 50 فیصد کمی کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 26-2025، ’اب پاکستان میں رہنا زیادہ مشکل اور باہر جانا مزید مہنگا ہوگیا‘
انہوں نے مزید کہا کہ 660 سی سی اور دوسری چھوٹی گاڑیوں پر حکومت نے جی ایس ٹی 12.
عام استعمال کی امپوڑٹڈ گاڑیاں خریدنے والے صارفین کے لیے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ہے جبکہ مہنگی بڑی امپورٹڈ گاڑیوں پر حکومت نے RD ریگولیٹری ڈیوٹی میں 50 فیصد کمی کر دی۔۔۔
نئے بجٹ میں جنھوں نے پراڈو، مرسیڈیز اور دیگر مہنگے ترین امپورٹڈ گاڑیاں خریدنی ہیں انکے علاوہ بجٹ میں سب کے لیے… pic.twitter.com/Ch4CWwIs1x
— Shiffa Z. Yousafzai (@Shiffa_ZY) June 18, 2025
سوشل میڈیا صارفین حکومت کے اس اقدام پر تنقید کرتے نظر آئے ایک صارف نے لکھا کہ یہ اب غریب کے لیے نہیں بلکہ ایک مافیا کا ملک بن چکا ہے۔
کیونکہ پاکستان اب ایک آتھاریٹیرین اسٹیٹ بن چکا ہے، یہ اب غریب کے لئے نہیں بلکہ ایک مافیا کا ملک بن چکا https://t.co/RbFqCaczMU
— X-PK (@komaraMuz) June 19, 2025
میاں ابرار لکھتے ہیں کہ یہ بجٹ اشرافیہ دوست اور غریب مخالف ہے۔
This budget is elite-friendly and anti-poor https://t.co/IrHNdWhpEm
— Mian Abrar (@mian_abrar) June 18, 2025
ایک ایکس صارف نے حکومت کے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اب عام آدمی کیا کرے؟
Shabash. Ab mei(aam admi) kia karun? https://t.co/aDobk29w74
— Sybil (@sybil_ahmed) June 18, 2025
اویس سلیم نے لکھا کہ پنجاب حکومت کی ترجمان کے مطابق جتنی نئی اور بڑی گاڑی، اتنی زیادہ ترقی کی علامتیں۔ غالباً اسی لیے مرکزی بجٹ میں بھی چھوٹی چھوٹی علامتوں پر توجہ نہیں دی گئی اور بڑی بڑی علامتوں کو ترجیح دی گئی ہے ۔
پنجاب حلومت کی ترجمان کے مطابق جتنی نئی اور بڑی گاڑی، اتنی زیادہ ترقی کی علامتیں۔ غالباً اسی لئے مرکزی بجٹ میں بھی چھوٹی چھوٹی علامتوں پر توجہ نہیں دی گئی اور بڑی بڑی علامتوں کو ترجیح دی گئی ہے ۔ https://t.co/77AjjpRKnt
— Awais Saleem (@awaissaleem77) June 18, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹو انڈسٹری بڑی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس گاڑیوں پر ٹیکس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ٹو انڈسٹری بڑی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس گاڑیوں پر ٹیکس گاڑیوں پر ٹیکس کے لیے بجٹ حکومت نے اور بڑی
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ