data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ محمد تحسین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹس پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں صنعتوں اور عوام دونوں کے لیے مشکلات کا روڈ میپ قرار دیا ہے۔شیخ محمدتحسین نے سولر مصنوعات پر سیلز ٹیکس اور پٹرولیم پر کاربن ٹیکس جیسے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان اقدامات سے پیداواری لاگت اور مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بجٹ میں صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا، نہ ہی ٹیکس میں کمی، مراعات یا پیداوار کے فروغ کے لیے کوئی فنڈنگ مختص کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ رہی سہی کسر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پوری کر دی ہے، جبکہ پالیسی ریٹس بھی بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کی وجہ سے صنعتوں کے لیے توسیع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔انہوں نے کراچی کی صنعتوں کو درپیش شدید پانی کے بحران کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں سے پانی کی قلت کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مناسب وسائل مختص نہیں کیے۔ ’’بڑے پانی کے منصوبوں کے لیے محض مونگ پھلی کے برابر فنڈز دیے گئے ہیں، اور صنعتیں و شہری ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔شیخ محمدتحسین نے نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت نے پانی منصوبے K4 کے لیے 3.

2 ارب روپے جبکہ سندھ حکومت نے صرف 10 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ فباٹی کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ کو دوبارہ ترتیب دے کر برآمدی صنعتوں،ایس ایم ایز اور کراچی کے کاروباری طبقے کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان

وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا