چینی کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کی اجازت نہیں دیں گے، رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں پر حکومت کی کڑی نظر ہے اور قیمت میں غیرمعمولی اضافے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چینی کی قیمتوں اور دستیابی پر اہم اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویرحسین نے کہا کہ چینی کی مناسب قیمت پر دستیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے، قیمت میں غیر معمولی اضافے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چینی کی پیداوار، سپلائی اور قیمت میں شفافیت یقینی بنائی جائے، چینی کی مارکیٹ میں استحکام حکومت اور صنعت کے تعاون سے ممکن ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ کسانوں اور صارفین کے مفادات کا مکمل تحفظ کریں گے۔
اس موقع پر شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کی چینی کی بلاتعطل فراہمی کی یقین دہانی کروائی اور انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر مکمل تعاون کا اعلان کیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صارفین کو ریلیف دینے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے، چینی کی قیمت پر حکومت کی کڑی نظر ہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چینی کی قیمت
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔