بیجنگ : چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے بالترتیب مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسیدی  سے فون پر بات کی۔ جمعرات کے روزمصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال خطرناک ہے۔ اسرائیل کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مصر اس کی مذمت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ایرانی جوہری مسئلہ جلد از جلد سیاسی حل کے راستے پر واپس آئےگا۔ وانگ  ای  نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین  کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں حالات اچانک کشیدہ ہو گئے ہیں۔ مصر نے حال ہی میں 20 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان جاری کرنے میں پیش قدمی کی اور چین اس کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وانگ ای  نے نشاندہی کی کہ اس وقت عالمی برادری بالخصوص علاقائی ممالک کو مزید اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے اور مزید مستقل اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ چین مصر کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز  پر   رابطے  کو مضبوط بنانے، بات چیت اور  مذاکرات کو فروغ دینے  اور امن کے لیے مسلسل کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسیدی نے کہا کہ عمان  کو موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ہے۔ چین نے ہمیشہ انصاف اور بین الاقوامی برادری میں امن کو برقرار رکھا ہے۔ عمان چین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی میں چین کے زیادہ اثر و رسوخ کا منتظر ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ چین نے فوری طور پر اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کی مخالفت کا اظہار کیا ہے اور امید ہے کہ عمان  اور اسلامی ممالک متحد ہو کر امن اور بات چیت کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ چین عمان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے   کو مزید مضبوط کرے گا اور اقوام متحدہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار