اسرائیل کی دھمکی ناقابل قبول، آیت اللہ سیستانی کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عراق کی اعلیٰ مذہبی شخصیت آیت اللہ سیستانی نے اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی زبان نہ صرف مذہبی اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی سراسر منافی ہے۔
آیت اللہ سیستانی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی اعلیٰ قیادت کو قتل کی دھمکی دینا ایک سنگین مجرمانہ عمل ہے، جس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ رویہ پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل سکتا ہے۔
انہوں نے اسلامی دنیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ کو روکنے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا خاموش رہی تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں اور یہ تنازع ایک بڑی تباہی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
آیت اللہ سیستانی کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری معاملے کا ایک پُرامن اور منصفانہ حل نکالا جانا چاہیے، جو عالمی قوانین کے تحت ہو۔ زبردستی، دھمکی یا جنگ سے نہ خطے میں امن آئے گا اور نہ انصاف ممکن ہو سکے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع اور وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے اشارے دیے گئے تھے، جس پر اسلامی دنیا میں سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ “جو ضروری ہوگا، ہم وہ کریں گے”۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آیت اللہ سیستانی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔