data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عراق کی اعلیٰ مذہبی شخصیت آیت اللہ سیستانی نے اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی زبان نہ صرف مذہبی اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی سراسر منافی ہے۔

آیت اللہ سیستانی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی اعلیٰ قیادت کو قتل کی دھمکی دینا ایک سنگین مجرمانہ عمل ہے، جس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ رویہ پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

انہوں نے اسلامی دنیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ کو روکنے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا خاموش رہی تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں اور یہ تنازع ایک بڑی تباہی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

آیت اللہ سیستانی کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری معاملے کا ایک پُرامن اور منصفانہ حل نکالا جانا چاہیے، جو عالمی قوانین کے تحت ہو۔ زبردستی، دھمکی یا جنگ سے نہ خطے میں امن آئے گا اور نہ انصاف ممکن ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع اور وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے اشارے دیے گئے تھے، جس پر اسلامی دنیا میں سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ “جو ضروری ہوگا، ہم وہ کریں گے”۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آیت اللہ سیستانی

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم