data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عراق کی اعلیٰ مذہبی شخصیت آیت اللہ سیستانی نے اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی زبان نہ صرف مذہبی اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی سراسر منافی ہے۔

آیت اللہ سیستانی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی اعلیٰ قیادت کو قتل کی دھمکی دینا ایک سنگین مجرمانہ عمل ہے، جس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ رویہ پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

انہوں نے اسلامی دنیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ کو روکنے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا خاموش رہی تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں اور یہ تنازع ایک بڑی تباہی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

آیت اللہ سیستانی کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری معاملے کا ایک پُرامن اور منصفانہ حل نکالا جانا چاہیے، جو عالمی قوانین کے تحت ہو۔ زبردستی، دھمکی یا جنگ سے نہ خطے میں امن آئے گا اور نہ انصاف ممکن ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع اور وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے اشارے دیے گئے تھے، جس پر اسلامی دنیا میں سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ “جو ضروری ہوگا، ہم وہ کریں گے”۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آیت اللہ سیستانی

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم