وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے ممکنہ مذاکرات پر آئندہ دو ہفتوں کے اندر حتمی فیصلہ کریں گے۔

واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں ٹرمپ نے ایران پر حملے کی منظوری سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا

انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات پر غور کررہے ہیں اور وہ جلد ہی اس حوالے سے واضح پالیسی اپنائیں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ امریکا نے ایران کو 60 دن کی مہلت دی تھی تاکہ وہ جوہری سرگرمیوں سے باز رہے، تاہم مہلت ختم ہونے کے ایک دن بعد اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔

ترجمان نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مجھے علم ہے کہ صدر کے فیصلے کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آیا امریکا اس تنازع میں براہِ راست شامل ہوگا یا نہیں۔

اس موقع پر کیرولین لیویٹ نے صدر ٹرمپ کا براہِ راست بیان بھی پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا ’اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ مستقبل قریب میں مذاکرات کے امکانات موجود ہیں یا نہیں، میں یہ فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں کروں گا کہ آگے بڑھنا ہے یا نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں روس اور چین کی ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت، تنازع کے سفارتی حل پر زور

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں شدت آئی ہے، جبکہ خطے میں دیگر طاقتیں بھی سفارتی اور عسکری لحاظ سے متحرک نظر آ رہی ہیں۔ اس تناظر میں امریکا کے کردار اور ممکنہ مداخلت سے متعلق عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی صدر ایران اسرائیل کشیدگی ترجمان ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ایران اسرائیل کشیدگی ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس وی نیوز

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ