کامران ٹیسوری گورنر ہاؤس کے دفاتر کی چابیاں ساتھ لے گئے، قائم مقام گورنر اویس قادر شاہ کیلئے دفاتر نہیں کھولے گئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20جون 2025)گورنر سندھ کامران ٹیسوری گورنر ہاؤس سندھ کے دفاتر کی چابیاں ساتھ لے گئے، قائم مقام گورنر اویس قادر شاہ کیلئے دفاتر نہیں کھولے گئے،قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ امن و امان کے مسئلے پر اجلاس کیلئے گورنر ہاؤس پہنچے لیکن ان کیلئے دفتر نہیں کھولا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ نے صوبے میں امن و امان کے مسئلے پر اجلاس طلب کر رکھا تھا جس میں وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ کو بھی شریک ہونا تھا۔
اویس شاہ جب گورنر ہاؤس پہنچے تو ان کیلئے دفتر نہیں کھولا گیا۔ بیشتر افسران گورنر ہاؤس پہنچ گئے لیکن عملے نے دفاتر نہیں کھولے گئے۔گورنر ہاؤس میں ہائی لیول اجلاس ختم ہونے کے بعد افسران بغیر بریفنگ دئیے روانہ ہوگئے۔(جاری ہے)
اس حوالے سے قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ کاکہنا ہے کہ محرم میں امن و امان سے متعلق گورنر ہاؤس میں آج اہم اجلاس طلب کیا تھا تاہم عملے نے بتایا کہ کامران ٹیسوری دفاتر کی چابیاں بھی ساتھ لے گئے ہیں۔
دفتر بند کروانے پر اویس قادر شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی کام سے نہیں روکا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس کا پورا عملہ غائب ہوگیا۔ ایم ایس سمیت کوئی نظر نہیں آ رہا ہے۔اویس قادر شاہ نے کہا کہ اس طرح دفاتر بند کروانا عہدے سے مذاق ہے۔ گورنر ہاؤس کا عملہ سندھ حکومت سے تنخواہ لیتا ہے۔ امن و امان کے اجلاس میں رکاوٹیں ڈالنا شرمناک ہے۔اویس قادر شاہ نے کہا کہ یہ آئینی منصب ہے کسی کی ذاتی بیٹھک نہیں۔ کامران ٹیسوری کو یہ حرکت زیب نہیں دیتی۔ اگر آج اجلاس منعقد نہ ہوا تو کامران ٹیسوری کے خلاف عدالت جاؤں گا۔اویس قادر شاہ نے کہا کہ پولیس افسران گورنر ہاؤس پہنچ چکے ہیں، وزیر داخلہ بھی اسلام آباد سے یہیں آ رہے ہیں۔ اویس قادر شاہ کامزید یہ بھی کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری صاحب پہلے بھی کئی دفعہ آفس کی چابیاں اپنے ساتھ بیرون ملک لے جا چکے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اویس قادر شاہ نے قائم مقام گورنر کامران ٹیسوری گورنر سندھ گورنر ہاؤس کی چابیاں نے کہا کہ لے گئے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔