ٹرمپ کی فٹبال ٹیم سے ملاقات؛ کیا ٹیم میں کوئی ٹرانس جینڈر خاتون ہے!
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معروف اطالوی فٹبال کلب یووینٹس کے پلئیرز سے ملاقات کے دوران عجیب سوالات نے کھلاڑیوں کو پریشان کردیا۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آفس میں اطالوی فٹبال کلب یووینٹس کے کھلاڑیوں کو مدعو کیا، اس دوران کھلاڑیوں سے عجیب سوالات بھی کیے، جس نے کھلاڑیوں کو چونکا دیا۔
ٹرمپ نے کھلاڑیوں سے ملاقات کے دوران سوال کیا کہ کیا کوئی ٹرانس جینڈر خاتون آپکی میں ٹیم میں شامل ہو سکتی ہے؟ اور کیا انہیں مقابلہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟۔
مزید پڑھیں: 17 سالہ فٹبالر سے 30 سالہ ائیرہوسٹس کے تعلقات؛ قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں
اِن غیر متوقع سوالات پر یووینٹس کے پلئیرز حیرت زدہ رہ گئے جبکہ اس موقع پر فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران امریکی صدر کے سوال پر فٹبالر تیموتھی ویا نے اس صورتحال کو "عجیب اور غیر متعلقہ" قرار دیا، انکا کہنا تھا کہ مجھے صرف فٹبال کھیلنا ہے، سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہتا۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرنے پر کھلاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں سے نواز دیا گیا
اس موقع پر یووینٹس فٹبال کلب کے جنرل مینیجر ڈیمین کومولی نے وضاحت دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ہمارے پاس خواتین کی ٹیم موجود ہے۔
امریکی صدر نے غیر متوقع طور پر کھلاڑیوں کیساتھ ایران اسرائیل جنگ سے متعلق بھی گفتگو کی تاہم فیفا کے صدر نے ملاقات کو خوش آئند قرار دیا۔
مزید پڑھیں: کیا رونالڈو کے گھر نئے مہمان کی آمد متوقع ہے؟ گرل فرینڈ کی ویڈیو وائرل
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوالات پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر منتخب ہونے کے محض کچھ عرصے بعد ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر فوجیوں کی سروسز اور سرکاری اداروں میں کام کرنے پر پابندی لگادی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کھلاڑیوں کو امریکی صدر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔