وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 جون2025ء) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور اور جاری بجٹ سیشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی چیئرمین ن سینیٹ اور وفاقی وزیر مواصلات کے مابین ملاقات میں مختلف سیاسی امور پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ خطے کی موجودہ صورتحال، پاکستان کے کردار اور دیگر معاملات زیر غور آئے۔
(جاری ہے)
بلوچستان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مختلف منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ کوئٹہ سے کراچی کے نیشنل ہائی وے این 25 پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اعتبار سے بلوچستان کے ذرائع مواصلات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور این ایچ اے کا ادارہ اس صوبے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کو کوئٹہ کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت کی کارکردگی لائق ستائش ہے اور امید ہے کہ بلوچستان میں جاری منصوبوں پر جلد اور معیاری کام مکمل کیا جائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان ڈپٹی چیئرمین
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔