گردشی قرضہ ختم کرنے کے اقدامات قابل تحسین ہیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر )نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاورسیکٹرمیں گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات قابلِ ستائش ہیں کیونکہ یہ مسئلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے معیشت، صنعت اورعوام کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضہ نہ صرف توانائی پیدا کرنے والے اداروں کی مالی سکت کوکمزورکرتا ہے بلکہ بجلی کی ترسیل وتقسیم کے نظام کوبھی متاثرکرتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاورسیکٹر میں سرمایہ کاری میں کمی آتی ہے اوربجلی کی پیداوار میں تسلسل برقراررکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی فیصلے، جن میں واجبات کی ادائیگیوں کے لیے بینکوں سے قرضوں کا حصول، بجلی چوری کی روک تھام، اور نادہندہ اداروں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں، ایک دیرپا اصلاحات کے آغاز کی علامت ہیں جنہیں مسلسل اورمؤثرطورپر جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاورسیکٹرکے مالیاتی مسائل کا حل ضروری ہے تاکہ بجلی کی لاگت میں استحکام آئے اورصنعتی شعبے کو سستی توانائی میسرہو، لیکن اس تمام عمل میں عوام کو قربانی کا سب سے بڑا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے صرف ٹیرف میں اضافہ کرنا آسان لیکن کمزور پالیسی ہے جس سے عام آدمی اورکاروباری طبقہ دونوں متاثرہوتے ہیں جبکہ صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت کوچاہیے کہ وہ قیمتوں میں اضافے کے بجائے انتظامی اصلاحات پرتوجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری، لائن لاسزاورناقص ترسیلی نظام جیسے مسائل گردشی قرضے کے بنیادی اسباب ہیں جن پرقابوپانے کے بغیرکوئی بھی مالی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اگریہ مسائل اپنی جگہ برقراررہیں تو بینکوں کے قرضوں کی شکل میں عوام پربوجھ بڑھتا ہی جائے گا، جونہ معقول ہے نہ قابلِ قبول۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :